Wednesday, 3 June 2015

دارالحدیث الجامعۃ الکمالیۃ راجووال اوکاڑہ میں ایک سال


بسم اللہ الرحمن الرحیم دارالحدیث الجامعۃ الکمالیۃ راجووال اوکاڑہ میں ایک سال تحریر:ابن بشیر الحسینوی رئیس جامعہ امام احمد بن حنبل اہل حدیث سٹی قصور راقم نے عرصہ آٹھ سال جامعہ امام محمد بن اسماعیل البخاری گندہیاں اوتاڑ قصور میں تدریس کی بلکہ اس جامعہ کے پہلے استاد کا شرف بھی حاصل ہے ۔پروفیسر عبیدالرحمن محسن حفظہ اللہ راقم سے ایک لمبے عرصے سے دوستانہ تعلق رکھتے تھے اور کافی دفعہ اظہار بھی کر چکے تھے کہ آپ ہمارے جامعہ میں تدریس کریں ہر دفعہ راقم یہی کہتا رہا کہ جس جامعہ میں میں تدریس کررہاہوں یہ میرا اپنا جامعہ ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا ۔۔اس کا اظہار شیخ محسن صاحب نے بھی کئی ایک جگہوں پر خود بھی کیا کہ ابن بشیر الحسینوی جامعہ امام محمد بن اسماعیل کے ساتھ مخلص ہے وہ ہمارے پاس نہیں آنا چاہتے۔ 2012 کے دوران شیخ محسن صاحب میری رہائش گاہ مسجد حراء چھانگا مانگا میں تشریف لائے اور آنے کا سبب بھی بتایا کہ میری درینہ خواہش ہے کہ آپ ہمارے جامعہ میں تدریس کریں ہمیں آپ کی اشد ضرورت ہے ہماری لابریری سے کوئی بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا رہا آپ تدریس بھی کریں اور تصنیفی و تحقیقی کام بھی کریں ،اس پر مجھے سوچنے پر مجبور کردیا اور میں نے کہا کہ شیخ صاحب ایک عرصہ سے آپ اصرار کررہے تھے اب میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ استاد محترم حافظ محمد شریف حفظہ اللہ اور محترم قاری محمد ادریس ثاقب حفظہ اللہ کو راضی کرلیں اگر یہ دونوں شخصیات مجھے خوشی سے اجازت دے دیں تو آپ کے جامعہ میں آجاؤں گا ان شا ء اللہ ۔ شیخ محسن صاحب نے استاد محترم حافظ محمد شریف حفظہ اللہ سے میرے متعلق تفصیلی بات کی کہ آپ ابن بشیر الحسینوی بھائی کو ہمارے جامعہ میںتدریس و تصنیف کی اجازت دے دیں تو حافظ شریف صاحب اس پر راضی ہو گئے اور کہا کہ میں ابن بشیر کو بخوشی دارالحدیث راجووال تدریس کرنے کی اجازت دیتا ہوں ساری تفصیل شیخ محسن صاحب نے مجھ سے بیان کر دی پھر راقم نے استاد محترم شریف صاحب سے مفصل بات کی تو انھوں نے کہا کہ بیٹا جامعہ محمد بن اسماعیل البخاری گندھیاں اوتاڑ میں آپ نے آٹھ سال ڈٹ کر کام کیا ہے ہم نے آپ کی اچھی خبریں سنی ہیں ہم آپ سے راضی ہیں اب ہم آپ کو راجووال میں بھیج رہے ہیں اور حافظ صاحب نے مجھے کہا کہ آپ محترم قاری محمد ادریس ثاقب صاحب سے میری رضامندی بیان کردیں وہ ان شاء اللہ آپ کو بخوشی اجازت دے دیں گے ان شاء اللہ ۔ میں نے اپنے کزن محترم انجنیئر محمد شفیق صاحب کو اپنے ساتھ لیا اور محترم قاری ادریس صاحب کے پاس پہنچ گئے ان سے ساری بات بیان کی تو انھوں نے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استاد محترم حافظ محمد شریف صاحب کی چاہت کو میں ترجیح دیتا ہوں میں ان کے حکم کی مخالفت کرنے کی جسارت نہیں کرسکتا اور مجھ سے کہا کہ آپ نے عرصہ آٹھ سال ہمارے پاس گزارا ہے ہمیں آپ سے کوئی شکوہ نہیں اگر آپ کو کوئی ہے تو ہمیں بتا دیں اس پر راقم نے کہا کہ آپ نے مجھے بہت محبت دی مجھے آپ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں پھر قاری صاحب نے یہ بھی کہا کہ شیخ صاحب ہمارے دروازے آپ کے لئے کھلے ہیں جب بھی ہمارے جامعہ میں آنا چاہیں ہم آپ کی خدمات کے لئے حاضر ہیں ۔ راقم رمضان کے بعد جامعہ دارالحدیث راجووال میں پہنچ گیا جامعہ کی سال کی پہلی میٹنگ ہوئی اس میں راقم کو تدریس کے لئے درج ذیل کتب دی گئیں ۱:صحیح البخاری جلد اول ،۲: سنن ابی داود ،۳:سنن الترمذی ،۴:ہدایہ،۵:فقہ السنۃ۔ راقم نے کتب راجووال میں پڑھائیں الحمدللہ ۔،اور باقی میری تمام مصروفیات تحقیقی و تصنیفی تھیں ۔ میرے ساتھ تدریس کرنے والے جو شیوخ کرام تھے ان کے نام درج ذیل ہیں ۔ڈاکٹر عبدالرحمن یوسف ،شیخ عنایت اللہ امین ،شیخ رفیق زاہد ،شیخ عدنان ،شیخ عبدالباسط ،شیخ محمد آصف سلفی ،شیخ اور شعبہ حفظ میں قاری شفیق صدیق ،قاری عبیداللہ احسن ،قاری قاری نجیب اللہ اور شعبہ سکول میں پڑھانے والے سر عابد ، سر مولانا عمر فاروق ہاشمی حفظہم اللہ تھے اور سفیر جامعہ مولانا ھارون صاحب تھے ۔ راقم کے ذمے مکتبہ کی دیکھ بھال بھی تھی اور پانچ پریڈ پڑھانے کے علاوہ باقی اکثر وقت مکتبہ میں گزرتا ۔ راجووال میں رہنے کے ثمرات: راوجووال میں راقم نے جو کچھ ثمرات پائے ان کی تفصیل تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے مختصرتفصیل درج ذیل ہے ۔ ۱:بابا جی شیخ الحدیث محمد یوسف محدث راجووالوی رحمہ اللہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جن کی زندگی دین حنیف کے لئے وقف تھی ان کی زندگی کے کئی ایک عظیم کارنامے منکشف ہوئے بلامبالغہ وہ اپنی ذات میں ایک تاریخ تھے جب بھی مؤرخ تاریخ برصغیر پر قلم اٹھائے گا ان کا تذکرہ کئے بغیر نہ رہے گا ،فرحمہ اللہ۔ ۲:مکتبہ دارالحدیث راجووال جو کہ بابا جی کی ستر سال کی محنت کا نتیجہ تھا کو بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا جہاں تمام علوم کی بے شمارکتب کا جم غفیر موجود ہے وہاں پر چند الماریاں پرانی کتب پر بھی مشتمل ہیں یہ وہ کتب ہیں جو برصغیر کے عظیم محدث اور شارح سنن الترمذی مولانا محمد عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے جن سے استفادہ اٹھایا اور ان کتب کے مالک جناب محمد عبداللہ کھپیانوالوی رحمہ اللہ تھے جب مولانا مبارکپوری شرح ترمذی لکھ رہے تھے انھوں نے جناب عبداللہ کھپیانوالوی کو خط لکھا کہ مجھے کتابوں کی اشد ضرورت ہے اس کے جواب میں مولانا کھپیانوالوی نے اونٹوں پر اپنا مکتبہ لاد کر مبارکپور میں روانہ کر دیا سبحان اللہ جب ان کتب سے مبارکپوری صاحب نے بھر پور فائدہ اٹھا لیا تو سارا مکتبہ واپس کردیا ۔تقسیم ہند کے وقت یہ مکتبہ پاکستان آیا کھپیانوالوی رحمہ اللہ کی اولاد میں سے مولانا عبدالمنان رحمہ اللہ اور انکے بیٹوں نے یہ مکتبہ، مکتبہ دارالحدیث راجووال کو وقف کر دیا ۔۔۔۔۔فجزاہم اللہ خیرا ۔ اس مکتبہ کی ایک ایک کتاب کو بغور پڑھنے کا موقع ملا یہ ساری کتب اہم ترین مراجع و مصادر کی کتب تھیں اور تمام کتب تقریبا پہلے طبعے ہی تھے جن کو دیکھ کو محدثین کی محنت کا اندازہ ہوا کہ نہ ہی لکھائی واضح اور نہ پرنٹ پرتکلف سبحان اللہ ۔وہاں پر صحاح ستہ کے تراجم کے پہلے طبعات بھی موجود تھے جو انتہائی سادہ اور بوسیدہ حالت میں تھے ۔وہاں پر امام العصر نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کی بھی بے شمار کتب موجود تھیں اسی طرح سید نزیر حسین محدث دہلوی کے بعض شاگردوں کی بھی قیمتی کتب موجود تھیں مثلا مولانا محمد سعید محدث بنارسی ،مولانا محمد ابوالقاسم سعید بنارسی ،محدث ابوالمکارم ،محدث ابوالحسن سیالکوٹی ، وغیرہ ۔۔وہاں رہ کر ہی کم از کم بیس ہزار روپے کی قیمتی نادر کتب کی فوٹو کاپیاں کروائیں اور بعض نادر کتب پر تخریج وتحقیق کا کام بھی مکمل کیا ۔۔ ۳:راجووال کے نزدیک ببر کھائی میں شیخ عنایت اللہ امین حفظہ اللہ کے پاس بعض نادر خطوط تھے ان کو بغور دیکھنے کا موقع ملا ان کا تعلق ان کے گاوں ببر کھائی کے بعض اہل علم سے تھے جن میں سے ایک عظیم شخصیت ابوداود عبداللہ رحمہ اللہ کی تھی جو سید نزیر حسین محدث دہلوی کے شاگرد تھے اور یہ امام العصر نواب صدیق حسن خاں کو بھی ملے تھے بلکہ ان کا وظیفہ نواب صاحب نے مقرر کررکھا تھا اور بعض کتب کی تصحیح انھوںنے انھی سے کروائی تھی بھوپال سے ببر کھائ میں ڈاک آتی تھی ۔۔۔نیز اس گاوں کے بعض وہ اہل علم جو جامعہ رحمانیہ دہلی سے فارغ تھے ان کی اسانید دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہوا ۔۔۔ 4:اس جامعہ میں مہمان بہت کثرت سے آتے تھے ایک دفعہ اوکاڑہ قاری عبداللہ یونس اور ان کے بھائی مولانا عبداللہ یوسف حفظہما اللہ تشریف لائے ان سے رات گئے تک میٹنگ ہوئی انھوں نے محدث عبدالجبار کھنڈیلوی رحمہ اللہ کے اوکاڑہ دارالحدیث لانے کی کار گزاری سنائی اور بعض ظلم وستم کی داستان یں سنائیں ۔۔۔اسی ملاقات میں انھوں نے سید نزیر حسین دہلوی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد عبدالغنی رحمہ اللہ کا تذکرہ کیا جو رینالہ کے قریبی دیہات کسی جی ڈی میں رہتے تھے وہ پڑھنے کے لئے دہلی گئے اور واپسی پر وہ دہلی سے عورتوں کا سلہ ہوا لباس بھی ساتھ لائے اور انھوں نے اپنے علاقے کی عورتوں کو توجہ دلائی کہ اس طرح کا لباس سلائی کیا کرو بلکہ شروع شروع میں خود سلائی کرکے عورتوں کو لباس دیتے رہے اصل میں جی ڈی والے دیہات جانگلی تھے اور وہاں کی عورتوں کا لباس اس زمانے اس طرح تھا کہ جسم کا اکثر حصہ ننگا ہوتا تھا او ران کو کوئی سمجھانے والا نہیں نزیر حسین دہلوی صاحب کے تربیت یافتہ شاگرد نےاس علاقے میں آکر لوگوں کی بری تربیت کی اور جانگلیوں کو سیدھا کر دیا اللہ تعالی کی توفیق سے ۔ ۵:اس جامعہ میں رہ کر بابا جی کی اولاد عبداللہ سلیم مرحوم کے حالات معلوم کرنے کا موقع ملا اور ان کے فرزند ان :ڈاکٹر عبدالرحمن یوسف ،ڈاکٹر عبیدالرحمن محسن حفظھما اللہ کے ساتھ بہترین رفاقت کا موقع ملا راقم نےان بزرگوں سے بہت کچھ سیکھا اور بہت زیادہ کاموں میں اپنی ناقص آرابھی دیتا رہا راقم ان کے اخلاق کریمانہ سے بہت زیادہ متاثر ہوا ۔۔۔اخلاق عالیہ کی ایک مثال راقم نے اپنا جامعہ شروع کرلیا لیکن پورا سال کوئی مہینہ ایسا نہیں گیا جس میں انھوں نے راقم کو اپنے ادارے نہ بلایا ہو بلکہ پہلے سے بھی زیادہ بہتر تعلقات قائم ہیں بلکہ اپنا ادارہ شروع کرنے کے تقریبا ایک سال بعد راقم نے اپنی کتاب (نصیحتیں میرے اسلاف کی)کا مقدمہ شیخ عبیدالرحمن محسن حفظہ اللہ سے لکھوایا انھوں نے راقم ناچیز کے بارے میں درج ذیل خیالات کا اظہارفرمایا :(اے اللہ مجھے ان کے گمان کے مطابق کر دے آمین،الحسینوی) ابن بشیر الحسینوی کے متعلق پروفیسر ڈاکٹر عبید الرحمن محسن حفظہ اللہ کے تاثرات مجھے سردست کچھ مؤلف کے بارے گزارشات پیش کرنی ہیں۔ میں فضیلۃ الشیخ ابن بشیرd سے ذاتی طور پر ایک عرصہ سے واقف ہوں۔ خدمت دین، تحقیق و تصنیف، دعوت و تبلیغ تعلیم و تدریس کے حوالے سے جذبات کا ایک تلاطم ہے جو ان کی شخصیت میں سمو دیا گیا ہے۔ آسماں کی بلندیوں کو چھوتے عزائم، سمندر کی وسعتوں اور گہرائیوں سے بھی کچھ آگے بڑھتے ہوئے احساسات،شبانہ روز انتھک محنت اور ہمالیہ سے محو کلام جرأت و ہمت یہ ہیں الشیخ ابن بشیر الحسینوی، جیسے انہیں میں نے محسوس کیا ہے!!۔ دارالحدیث راجووال کے مکتبہ میں مسلسل کئی گھنٹے بیٹھے رہتے، کتابوں کے ڈھیر میں گم سم، ان کے ذوق مطالعہ کے پیش نظرمیں نے مکتبہ کی چابی انہی کو دے رکھی تھی۔ مطالعہ میں استغراق و انہماک کے باجود دنیا کے جدید حالات اور تقاضوں سے بھی آگاہ اور باخر، انٹرنیٹ پر مسلسل نہ صرف اکثر محدثین سے رابطے میں رہتے ہیں، بلکہ اولاً لائن تدریس مصروفیات بھی رکھتے ہیں۔ بالخصوص تدریس حدیث کے اسلوب و منہاج میں ہمارے عربی، ہمارے محسن ہمارے شیخ مکرّم، محدث العصر، فضیلۃ الشیخ حافظ محمد شریفd أستاذ الحدیث و پیش مرکز التربیۃ الإسلامیۃ فیصل آباد سے بھی بہت متاثر ہیں۔ منہج الدراسۃ المقارنۃ یعنی ایک ایک حدیث کو اصل مصادر سے پڑھنا، ان کے طرق و اسانید کو دیکھنا، الفاظ و کلمات اور تعبیرات کا مطالعہ کرنا، متعلقہ شروح الحدیث کی گہرائی میں جانا اور پھر ان سے احکام و سائل کا استنباط کرنا اور فقہ الحدیث میں مہارت حاصل کرنا…… یقینا اس منہج تدریس کی بدولت ہماری مادر علمی ’’مرکز التربیۃ الاسلامیۃ‘‘ سے علماء کی ایک کھیپ تیار ہوئی جو اس وقت متعدد دینی مدارس اور تحقیقی اداروں میں دقیع خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ہمارے ممدوح، فاضل دوست ابن بشیر صاحب اس منہج تدریس کا دینی مدارس میں احیاء کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح تحقیق و تصنیف کے حوالے سے بھی موصوف بڑے اچھے جذبات رکھتے ہیں۔ایسے خوبصورت جذبات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمارے فاضل بھائی نے گزشتہ سال شہر قصور میں جامعہ امام احمد بن حنبل کی بنیاد رکھی، میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس فاضل بھائی کے عظیم الشان منصوبہ جات کی تکمیل فرمائے، ان کیلئے مطلوبہ افراد و وسائل اپنے غیبی خزانوں سے مہیا فرمائے۔ شفاعت حفہ کے طور پر ہر قاری سے بالعموم اور شہر قصور کے احباب سے بالخصوص میری درخواست ہے کہ خیر کے ان کاموں میں موصوف کے دست و بازو بنیں تاکہ یہ کھل کر کام کر سکیں۔ وصل اللّٰہ وسلم و بارک علی النبی الکریم وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم بإحسنا إلی یوم الدین کتبہ الفقیر إلی اللّٰہ ابوسعد عبیدالرحمن محسن بن شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف مہتمم دارالحدیث الجامعۃ الکمالیۃ راجووال۔ ضلع اوکاڑہ 1436ھ 15-04-2015ء اس میں ان لوگوں کے لئے ایک نصیحت بھی ہے کہ جامعہ یا مسجد چھوڑ دینا کوئی معیوب نہیں لیکن اس چھوڑنے کو کفر واسلام کی جنگ سمجھنا اور عداوت پھیلانا معیوب ہے ۔۔ہر ہر انسان کو دین کی سربلندی کے اچھے اقدام اٹھانے کا حق ہے ۔۔ ۵:اس جامعہ ایک سال کے دوران بہت زیادہ تعلمی اصلاحات نافذ کروائیں اور طلبہ میں تحقیق و فکری منھج عام کیا سب سے اہم بات یہ ہے کہ مکتبہ دروازے چوبیس گھنٹے کھلوا ئے اور الحمدللہ اب بھی مسلسل دروازے کھلے ہیں طلبہ ڈٹ کر فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔۔۔میرے جانے سے پہلے مکتبہ کی صورت حال کافی پریشان کن تھیں ۔۔۔۔ہر اچھی بات شیخ محسن صاحب چند مجلسوں کے بعد مان جاتے تھے ۔۔۔ ۶:راقم نے راجووال میں سب سے اہم کام شرح صحیح بخاری والا کام تھا جس کی خاطر شیخ محسن صاحب نے میر بہت زیادہ ساتھ دیا بلکہ یہاں تک کہ اس پر مراجع و مصادر کی کتب جو بھی میں کہتا وہ فورا منگواتے اور میں اس سے فائدہ اٹھاتا ۔۔اور مجھے یہ بھی سہولت مہیا کی جامعہ کے پرنٹر سے مجھے اجازت دی گئی کہ جب بھی ابن بشیر کو کسی پرنٹر کی ضرورت ہو تو فورا نکا ل کر دیا جائے ۔۔۔۔ اور شرح صحیح بخاری پر کام کرنے کے دوران مسلسل اپنی ذاتی آمدنی سے میری مالی معاونت بھی کرتے رہے اور ابھی تک وہ معاونت کئی ایک شکلوں  میں جاری و ساری ہے فجزاہ اللہ خیرا۔بلکہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں جب کوئی مشکل آتی ہے تو فورا اس میں میراساتھ دیتے ہیں ۔۔ المختصر دارالحدیث میں رہ کر مجھے بہت فائدہ ہوا اور اب بھی مسلسل اس سے فائدہ اٹھا رہا ہوں اور مرنے تک فائدہ اٹھا تا رہوں گا اس جامعہ کی انتظامیہ نے میری بڑی قدر کی اور اب بھی کرتے ہیں فجزاھم اللہ خیرا۔

Saturday, 21 March 2015

اذالۃ الاکنۃ عن بعض المواضع فی تمام المنۃ للالبانی لشیخ الاسلام محب اللہ شاہ راشدی رح


ترتیب :ابن بشیر الحسینوی اذالۃ الاکنۃ عن بعض المواضع فی تمام المنۃ للالبانی لشیخ الاسلام محب اللہ شاہ راشدی رح فائدۃ مھمۃ حول التعلیقات :اعلم رحمک اللہ ان اکثر التعلیقات علی الکتب للشیخ محب اللہ ولھا بعضھا مطلق و بعضھا بکنیتہ ابی القاسم او بابی الروح و بعضھا لابن الشیخ قاسم و بعضھا لحفید الشیخ انور و بعضھا لفیض الرحمن الثوری رحمہ اللہ۔ وعلامات التعلیقات فی ھذالکتاب ھی: تعلیقات الشیخ محب اللہ بدون ای اسم۔ اما تعلیقات اخر بصراحۃ اسمہم ا وکنیتھم۔ المراد بابی احسان اللہ او ابن محب اللہ ھو الشیخ العلامۃ قاسم شاہ راشدی حفظہ اللہ وبا بی المحبوب ھو الاخ الفاضل انورشاہ راشدی حفظہ اللہ و تعلیقات الشیخ المحدث فیض الرحمن الثور ی رحمہ اللہ باسمہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اذالۃ الاکنۃ عن بعض المواضع فی تمام المنۃ للالبانی قولہ :۔۔۔ففی مثل ھذا یعمل بہ فی فضائل الاعمال (ص:۳۵) اقول:ھذا المعنی ھوالذی ذکرہ العلامۃ ابوالفیض محمد بن علی الفارسی فی جواہر الاصول و ھو الصحیح ۔ قولہ:فکیف بمن عمل بہ (ص:۳۷) اقول:انظر الصفحۃ السابقۃ (یعنی التلیق الماضی) قولہ:ولو قدرنا ان مثل ھذاالفعل قد قام ما یدل علی التاسی بہ فیہ لکان خاصا بالعمران ۔۔۔(ص:۶۰) اقول:بل الدلیل موجود کانہ لو کان خاصا بہ لاخبر النبی ﷺ بانہ خاص بہ او لاخبر الذی لا تخفی علیہ خافیۃ فی الارض ولا فی السماء حتی لا تغتر الامۃ من فعلہ ﷺ ثم کیف یکون ھذا خاص بہ ﷺ ؟والمنع انما القبلۃ فھل یتصور مسلم ان النبی ﷺ مستثنی من احترام القبلۃ ؟لا بل ھو اول من رای احترام القبلۃ فتدبر! قولہ :افلا یکون البول والغائط تجاھھا محرما من باب اولی ۔(ص:۶۰) اقول:ھذا قیاس مع الفارق لان جدر الابنیۃ الاخر تصلح ان تکون قبلۃ للمصلی و غیرہ واما جدار الکنیف فلا یصلح ان یکون قبلۃ لان الکنف لا تصح فیھا صلاۃ اصلا فالفارق موجود فتامل! قولہ: ھذا الحدیث لا یصح متنہ ۔۔(ص:۶۶) قال الاخ الفاْضل ابوالمحبوب:ْھذا الاضطراب غیر قادح فی صحۃ الحدیث و ھذا ما اثبتہ استاذنا الشیخ ارشاد الحق الاثری فی مقالاتہ المجلد الثانی متعاقبا علی الشیخ ثناء اللہ حفظہ اللہ ۔ قولہ:(عن ابن مقدم)ولم یوثقہ فی التقریب فانہ اقتصر علی قولہ فیہ وکان یدلس شدیدا ۔(ص:۷۰) اقول:ھذا عجیب فان الحافظ قال فی التقریب :(واسطی ثقۃ )ثم قال ما ذکرہ العلامۃ ھنا فلیتنبہ لذلک ۔ قولہ:لا یشک فیہ ذلک ای منصف (ص:۸۱) اقول:لعل الصواب ’’فی ذلک ‘‘۔واللہ اعلم قولہ:ووقع فی روایتھم فتوضا ثم صلی ثم قال ۔۔۔۔۔‘‘و ھذا یدفع ترجمۃ ابن السنی حیث قال :’’باب ما یقولہ بین ظہرانی وضوۂ ۔‘‘لتصریحہ بانہ قال بعد الصلاۃ ،و یدفع احتمال کونہ بین الوضوء والصلاۃ۔‘‘(ص:۹۵) اقول:ماالمانع ان یکون النبی ﷺ قال ذلک فی الوضوء والصلاۃ ایضا فالتعلیل بمثل ھذا اللباب الفاضل للالبانی واللہ الموفق ۔ قولہ:ففی سماعہ من ابی موسی نظر (ص:۹۵) اقول:فی ھذا نظر فانہ لا یلزم من کون احد من التابعین لم یسمع من صحابی قد مات بعد مدۃ من زمان انہ لم یسمع من کان مات قبل ذلک الصحابی المتاخر الوفاۃ فھذا الحسن البصری قد سمع خطبۃعثمان رضی اللہ عنہ کما ھو مصرح فی المعجم الکبیرللطبرانی بسند جید ولکنہ لم یسمع من ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ وقد تاخر وفاتہ بعد عثمان رضی اللہ عنہ بمدۃ مدیدۃ فھذ شیء لا طائل تحتہ واللہ الموفق للصواب ۔ قولہ:وقد وجدت للحدیث علۃ اخری وھی الوقف فقد اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف :(۱۔۲۹۷)من طریق ابی بردۃ قال کان ابو موسی اذا فرغ من صلاتہ قال : اللھم اغفرلی ذنبی و یسر لی امری و بارک لی فی رزقی‘‘وسندہ صحیح ۔(ص:۹۶) اقول:والاسف ان العلامۃ الالبانی رحمہ اللہ لم یراع تفاوت الفاظ الدعائین ۔ثم انہ یحتمل ان یکون الدعاء قد ورد فی الوضوء والصلاۃ فلا وجہ للاعلال بہ فتدبر ۔ واما الاعلال بالانقطاع فان احدا من الائمۃ المتقدمین لم یقل بعدم سماع ابی مجلز من ابی موسی رضی اللہ عنہ حتی الامام ابن ابی حاتم لم یذکرہ فی مراسیلہ و لم نر للحافظ ابن حجر سلفا فی تشکیک سماع من ابی موسی رضی اللہ عنہ ولم یذکر علی ذلک شیئا من الدلیل و غایۃ ما قال انہ کان یرسل والفرق بین الارسال والتدلیس بین لایخفی من مثل الحافظ ولا یلزم من کون احد من التابعین قد ارسل عن صحابی فی موضع او موضعین انہ کان یرسل فی کل موضع ۔نعم:اذا کان قد صرح احد من ائمۃ الجرح والتعدیل ان ھذا الرجل قد ارسل عن الصحابی الفلانی فھذا یکون سببا للقدح لا بمجرد الظن والتخمین و ابو مجلز من کبار الثالثۃ فسماعہ من ابی موسی رضی اللہ عنہ لیس ببعید فاذ لم یصرح احد من الائمۃ المتقدمین بعدم سماعہ من ابی موسی فسماعہ ھو الثابت المتیقن فلانترک الیقین بالوھم والشک فالحدیث۔ والحمدللہ۔ صحیح ۔واللہ اعلم بالصواب۔ وقد ادخل الحافظ المزی فی تھذیب الکمال ابا موسی الاشعری رضی اللہ عنہ فی شیوخ ابی مجلز ولم یتکلم بخلافہ وھذا موید لما ذھبنا الیہ واللہ الموفق ۔ قولہ:فالحدیث لیس دلیلا للحنفیۃ الذین یقولون بان اللمس مطلقا لا ینقض الوضوء بل ھو دلیل لمن یقول بان اللمس بغیر شھوۃ لاینقض بدلیل بسرۃ ،و بھذا یجمع بین الحدیثین ۔(ص:۱۰۳) اقول:قد ذل قلم العلامۃ الالبانی ھنا بل الصواب ان لیس الذکر ناقض للوضوء مطلقا وحدیث بسرۃ اصح من حدیث طلق ثم حدیث بسرۃ ورد بعد حدیث طلق والشواھد لحدیث بسرۃ موجودۃ وھذا ھو مذھب جمھور المحدثین وانظر الصحیح لابن حبان والمحلی لابن حزم وغیرھما فما ادری ماالحامل للعلامۃ الالبانی علی الانحراف عن ھذا المسلک المنصور۔ وباللہ التوفیق ۔ قولہ:فالاقرب ۔واللہ اعلم۔ان المراد بالطاھر فی ھذا الحدیث ھو المومن ۔(ص:۱۰۷) اقول:لکن ما ھی القرینۃ علی ھذا الحمل؟اقول :الیست القرینۃ الحدیث المتفق علیہ’’المومن لا ینجس‘‘واللہ اعلم ۔ قولہ:لقولہ ﷺ :من غسل میتا فلیغتسل ،ومن حملہ فلیتوضاء۔وھو حدیث صحیح۔۔(ص:۱۱۲) اقول: فیہ نظر لان الحدیث لایصح منہ الا طریق اسحق مولی زائدۃ وقد قالہ البخاری :بما نقلہ عنہ الترمذی فی عللہ الکبیر فی ھذہ الطریق ان الصواب فیہ الوقف فاین الصحۃ الوقف فاین الصحۃ رفعا ؟ثم لو کان بثبت عندہ مرفوعا صحیحا فما الصارف لہ عن حمل الامر علی الوجوب الی الاستحباب؟ قولہ:وبینا المراد من الحدیث ھناک وانہ لا یدل علی تحریم مس القرآن علی المومن مطلقا ۔فراجعہ۔(ص:۱۱۶) اقول:لکن العلامۃ الالبانی رحمہ اللہ لم یذکر القرینۃ لحملہ علی ھذا المعنی کما ذکرنا ھناک فتدبر انظر تعلیق التغلیق ص:۱۰۷۔ قولہ:ان فی سندہ عامر بن السمط ابا الغریف ولم یوثقہ غیر ابن حبان۔(ص:۱۱۷) اقول:قد ارتکب العلامۃ البانی رحمہ اللہ ھنا غلطا فاحشا لم نکن نتوقع صدورہ من مثلہ، اما اولا: فانہ جعل عامر بن السمط وابا الغریف رجلا واحدا فالحال انھما رجلان فاما عامر بن السمط فثقۃ کما فی التقریب و اما ابو الغریف فاسمہ عبیداللہ بن خلیفۃ فھو کما قال الحافظ ’’صدوق‘‘فقد وثقہ ابن حبان وقال ابو حاتم کان علی شرطۃ علی رضی اللہ عنہ ولیس بالمشھور وقیل لہ ھو احب الیک او الحارث الاعور قال:الحارث اشھر وھذا شیخ قد تکلموا فیہ من نظراء اصبغ بن نباطۃ وقد اطلق ابو حاتم علیہ اسم الشیخ وھو من ادنی مراتب التعدیل واما المتکلم فغیر معلوم وکذلک ما ھو الکلام الذی قد قیل فیہ فھو حین ذلک معروف عند ابن ابی حاتم لا مجھول وذکر الحافظ فی التقریب ان ابن سعد قال فیہ کان قلیل الحدیث وقال العجلی کوفی وذکرہ البرقی فیمن احتملت روایتہ وقد تکلم فیہ ۔انتھی ۔فمن کانت حالہ مثل ما ذکرناہ فی مثل ابی الغریف لا یکون مستورا او مجھول الحال فضلا ان یکون مجھول العین فصواب فی ذلک ان ابا الغریف صدوق ۔ [وقال ابوالمحبوب حفظہ اللہ:فال فیہ یعقوب بن سفیان الفسوی :وھو ثقۃ ۔(کتاب المعرفۃ:۳۔۲۰۰)] واما ثانیا فانہ حذف لفظ ’’الشیخ ‘‘من عبارۃ ابی حاتم فانہ کان مضرا لہ۔واللہ اعلم ۔قد قال محقق اثری العلامۃ احمد الشاکر ’’اسنادہ صحیح ‘‘۔۔وابو الغریف اسمہ عبیداللہ بن خلیفۃ الھمدانی ذکرہ ابن حبان فی الثقات وکان علی شرطۃ علی والحدیث رواہ البخاری فی الکبیر ۴۔۱۔۶۰۔۶۱عن احمد بن اشکاب عن عائذ فلم یعللہ بشیء وانظر شرحنا علی الترمذی :۱۔۲۷۳۔۲۷۵انتھی قلت :فھذا امام المحدثین یذکر حدیث ابی الغریف عن علی رضی اللہ عنہ ولا یعللہ بشیء فالحدیث عندہ علی الاقل حسن و ناھیک بتحسین ھذا الحدیث من مثل امام المحدثین ابی عبداللہ البخاری رحمہ اللہ ۔واللہ اعلم بالصواب۔ وقال ابوالمحبوب:فی منھج الامامین (احمد شاکر و ابی القاسم رحمھما اللہ )نظر لان سکوت البخاری علی ای راو و روایۃ فی کتبہ لا یدل علی توثیق الروایۃ و رواتھا قد رد علی ھذا المنھج شیخ العرب والعجم بدیع الدین الراشدی رحمہ اللہ حیث قال ردا علی ظفر احمد تھانوی :’’یکفی لبطلان ھذا الاصل ان الامام البخاری نفسہ سکت عدۃ من الرواۃ فی تاریخہ و جرحھم فی کتب اخری مثال ذلک انہ ذکر فی تاریخہ الحارث بن النعمان اللیثی و الصلت بن مھران التیمی الکوفی ابا ھاشم وعبداللہ بن معاویہ من ولد الزبیر بن العوام الاسدی البصری وعبداللہ بن محمد بن عجلان مولی فاطمۃ بنت عتبۃ القرشی و عبدالرحمن زیاد بن انعم الافریقی وعبدالوھاب بن عطاء الخفاف و عمران العمی و عاصم بن عبیداللہ العمری و معاویۃ بن عبدالکریم الثقفی ابا عبدالرحمن البصری ومختار بن نافع ابااسحق التیمی و نصر بن حماد بن عجلان و یحیی بن سلیمان المدنی و یحیی بن محمد الجاری ولم یتکلم احد منھم ولاجرحہ و ذکر کلھم فی ضعفاء الصغیر وجرحہم ثم من قابل تواریخہ مع الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم والمیزان واللسان وا لتھذیب و جد ذلک کثیرا ۔(نقض قواعد فی علوم الحدیث ص:۲۱۴) قولہ:حماد بن ابی سلیمان قال:سالت سعید بن جبیر عن الجنب یقرا ؟فلم یر بہ باسا ۔وقال :الیس فی جوفہ قرآن؟(ص:۱۱۸) اقول:فیہ ان القرآن فی جوفہ وھو یضاجع امراتہ وایضا ھو فی جوفہ وھو یبول ویتغوط فھل یجوز لہ ان یقرا القرآن فی ھاتین الحالتین؟وقد کان ﷺ یقول بسم اللہ اللھم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث اذا اراد ان یدخل الخلاء لا حین یکون داخلا فیہ فتدبر ۔ قال ابو المحبوب:اما اثر سعید بن جبیر الذ ی ذکرہ الالبانی رحمہ اللہ مستدلا بہ فھو ضعیف لان فیہ حماد بن ابی سلیمان الاشعری وھو ان کان صدوقا قد اختلط فروایۃ القدماء مثل شعبہ و سفیان الثوری و ھشام الدستوائی عنہ صحیحۃ کما صرح بہ احمد بن حنبل وغیرہ لانھم سمعوا منہ قبل الاختلاط و اما غیرھم سمعوا منہ بعد الاختلاط فھذا منھم ۔راجع الی (تھذیب الکمال :۷؍۲۷۱۔۷۲) قولہ:یضاف الی ذلک ان جسرۃ ھذہ لم یوثقھا من یعتمد علی توثیقہ۔(ص:۱۱۸) اقول:جسرۃ بنت دجاجۃ رمز لھا الحافظ فی التقریب (دس ق)قال:مقبولۃمن الثالثۃ ویقال ان لھا ادراکا۔اقول:من کان ھذا حالھا فکیف یرد حدیثھا فاقل درجاتھا الحسن خاصۃ وان العلۃ الاولی وھی الاضطراب غیر قادحۃ اذا المقرر عند المحدثین انہ فی الصحابی لا یضر ۔واللہ اعلم قال ابوالمحبوب:اما تضعیف الالبانی رحمہ اللہ لجسرۃ بنت دجاجۃ علی اعتماد قول البخاری ھذا (وعند جسرۃ عجائب )فیہ نظر لان کلمۃ البخاری لیست من الجرح فی شیء وھو ما صرح بہ وقال ابوالحسن بن قطان فی بیان الوھم والایھام (۵؍۳۳۱)واما جسرۃ بنت دجاجۃ فقال فیھا الکوفیۃ تابعیۃ ثقۃ وقول البخاری ان عندھا عجائب ۔لایکفی لمن یسقط حدیثھا وقال ابن القطان فی کتابہ المذکور (۶؍۳۵۳)جسرۃ ھذہ معروفۃ یوثقھا قوم و یتوقف فی روایتھا قوم آخرون ۔ وقال ایضا الحافظ الذھبی فی المیزان (۱؍۳۹۹)فقال:’’قولہ :ای البخاری ،عندھا عجائب لیس بصریح فی الجرح بل وثقھا العجلی وقال :تابعیۃ ثقۃ۔وذکر ھا ابن حبان فی ثقات التابعین وصحح حدیثھا ابن خزیمۃ (۱۳۲۷) قولہ:وتقریر جمیع الحاضرین من الصحابۃ وغیرھم لما وقع من ذلک الانکار ،لھو من اعظم الادلۃ القاضیۃ بان الوجوب کان معلوما عند الصحابۃ ولو کان الامر عندھم علی عدم الوجوب لما عول ذلک الصحابی فی الاعتذار علی غیرہ ،فای تقریر من عمر ومن حضر بعد ھذا الانکار ؟!(ص:۱۲۰) اقول:فیہ انہ لو کان الامر کما ذکر لامرہ عمر رضی اللہ عنہ ان یرجع فیغتسل ثم یر جع الی المسجد لان الغسل علی ما ذکرتم فرض یجب اتیانہ قبل الخروج لصلوۃ الجمعۃ واما ما یکمن ان یقال ان عمر رضی اللہ عنہ کان یخطب فلو امر بالخروج لیغسل لفاتہ صلاۃ الجمعۃ ؟فالجواب:ان عمر رضی اللہ کان یمکنہ ان یطول خطبتہ قدر خمس او عشرۃ دقائق ففی قدر ھذا الزمان امکنہ الغسل والحضور للصلوۃ ۔واللہ اعلم ۔ وقال ابو المحبوب :لو کان عثمان رضی اللہ عنہ اذن جنبیا فھل یقبل عذرہ و یسقط عنہ فرض ؟ان لا و کلا ۔فھذا الدلیل لیس بنافع واللہ اعلم ۔ثم رایت فی الارواء قد رجح الالبانی رحمہ اللہ باستحباب الغسل یوم الجمعۃ وقد الفت فی ترجیح استحباب الغسل یوم الجمعۃ رسالۃ مفصلۃ وھی مطبوعۃ فی دعوت اھل حدیث رقم:۹۱۱والحمدللہ علی ذلک ۔ قولہ:فی ھذا الاستدلال نظر ،اما الاثر عن ابن عمر ،فموقوف ولا حجۃ فیہ ان صح ،ثم الظاہر ان المراد منہ ما یراد من الحدیث ،وھو ان السنۃ الوضوء قبل الغسل لا بعدہ ۔(ص:۱۲۹) اقول:کیف و انت قد خصصت امر اعفاء اللحیۃ بفعل صحابی وھنا تقول ما قلت ،فتامل۔واللہ اعلم ۔ قولہ:ینتج منھما انہ ﷺ کان یصلی بالغسل الذی لم یتوضاء فیہ ولا بعدہ واللہ اعلم ۔(ص:۱۲۹) اقول:فی حدیث جابر رضی اللہ عنہ بیان اقل الغسل فمن این یاخذ العلامۃ الالبانی عدم الوضوء۔فتفکر۔ قولہ:فاحدھما یقوی الآخر ولھا طریق ۔۔۔(ص:۱۵۳) اقول:ھذا عجیب من ھذا الفاضل ۔۔۔۔۔ تسامحنا اللہ تعالی وایاہ ۔ قولہ:لکن یقویہ ما عند ابن ابی شیبۃ من طریق قتادۃ عن ام الحسن انھا رات ام سلمۃ زوج النبی ﷺ توم النساء تقوم معھن ۔(ص:۱۵۴) اقول:لکن فیہ قتادۃ و قد عنعن فاین الصحۃ ومع ھذا فھذہ عدۃ آثار یقوی بعضھا بعضا فالمسئلۃ علی حالھا ۔واللہ اعلم۔ تنبیہ:قال ابوالمحبوب:رایت مرۃ یضر الالبانی عنعنۃ قتادۃمثلا انظر الارواء:۱؍۳۹ و یدافع عنہ اخری مثلا انظر النصیحۃص:۱۰۹،الصحیحۃ:۵؍۶۱۴ والصواب ان قتادۃ مدلس مشھور معروف بکثرۃ التدلیس ذکرہ ابن حجر فی طبقات المدلسین من المرتبۃ الثالثۃ وقال :مشہور بالتدلیس ،وقال الذھبی وھو حجۃ بالاجماع اذا بین السماع (السیر:۵؍۲۷۱)اراد انہ کثیر التدلیس لذلک یشترط بتصریح سماعہ علی قبول روایتہ ۔ قولہ:وبالجمۃ فھذہ الآثار صالحۃ للعمل بھا ولاسیما وھی مویدۃ بعموم قولہ ﷺ (انما النساء شقائق الرجال )کما تقدم فی ما نقلناہ لک من کلام الشوکانی فی السیل الجرار فتذکر فانہ مھم ۔(ص:۱۵۵) اقول:اما الاقامۃ فلا فیھا علی النساء ایضا و ھذا ھو الصحیح واما الاذان فما الحاجۃ لھن الیہ والاذان یودی فی بلاد المسلمین و قراھم فھل ھنا دلیل علی ان النساء مامورات ان یوذین لانفسھن حاجبۃ فمن کان عندہ دلیل علی ھذا فلیھدنا وعلی اللہ اجرہ ۔ __________________