Showing posts with label حالات زندگی شیخ ابن بشیر الحسینوی حفظہ اللہ. Show all posts
Showing posts with label حالات زندگی شیخ ابن بشیر الحسینوی حفظہ اللہ. Show all posts

Wednesday, 3 June 2015

دارالحدیث الجامعۃ الکمالیۃ راجووال اوکاڑہ میں ایک سال


بسم اللہ الرحمن الرحیم دارالحدیث الجامعۃ الکمالیۃ راجووال اوکاڑہ میں ایک سال تحریر:ابن بشیر الحسینوی رئیس جامعہ امام احمد بن حنبل اہل حدیث سٹی قصور راقم نے عرصہ آٹھ سال جامعہ امام محمد بن اسماعیل البخاری گندہیاں اوتاڑ قصور میں تدریس کی بلکہ اس جامعہ کے پہلے استاد کا شرف بھی حاصل ہے ۔پروفیسر عبیدالرحمن محسن حفظہ اللہ راقم سے ایک لمبے عرصے سے دوستانہ تعلق رکھتے تھے اور کافی دفعہ اظہار بھی کر چکے تھے کہ آپ ہمارے جامعہ میں تدریس کریں ہر دفعہ راقم یہی کہتا رہا کہ جس جامعہ میں میں تدریس کررہاہوں یہ میرا اپنا جامعہ ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا ۔۔اس کا اظہار شیخ محسن صاحب نے بھی کئی ایک جگہوں پر خود بھی کیا کہ ابن بشیر الحسینوی جامعہ امام محمد بن اسماعیل کے ساتھ مخلص ہے وہ ہمارے پاس نہیں آنا چاہتے۔ 2012 کے دوران شیخ محسن صاحب میری رہائش گاہ مسجد حراء چھانگا مانگا میں تشریف لائے اور آنے کا سبب بھی بتایا کہ میری درینہ خواہش ہے کہ آپ ہمارے جامعہ میں تدریس کریں ہمیں آپ کی اشد ضرورت ہے ہماری لابریری سے کوئی بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا رہا آپ تدریس بھی کریں اور تصنیفی و تحقیقی کام بھی کریں ،اس پر مجھے سوچنے پر مجبور کردیا اور میں نے کہا کہ شیخ صاحب ایک عرصہ سے آپ اصرار کررہے تھے اب میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ استاد محترم حافظ محمد شریف حفظہ اللہ اور محترم قاری محمد ادریس ثاقب حفظہ اللہ کو راضی کرلیں اگر یہ دونوں شخصیات مجھے خوشی سے اجازت دے دیں تو آپ کے جامعہ میں آجاؤں گا ان شا ء اللہ ۔ شیخ محسن صاحب نے استاد محترم حافظ محمد شریف حفظہ اللہ سے میرے متعلق تفصیلی بات کی کہ آپ ابن بشیر الحسینوی بھائی کو ہمارے جامعہ میںتدریس و تصنیف کی اجازت دے دیں تو حافظ شریف صاحب اس پر راضی ہو گئے اور کہا کہ میں ابن بشیر کو بخوشی دارالحدیث راجووال تدریس کرنے کی اجازت دیتا ہوں ساری تفصیل شیخ محسن صاحب نے مجھ سے بیان کر دی پھر راقم نے استاد محترم شریف صاحب سے مفصل بات کی تو انھوں نے کہا کہ بیٹا جامعہ محمد بن اسماعیل البخاری گندھیاں اوتاڑ میں آپ نے آٹھ سال ڈٹ کر کام کیا ہے ہم نے آپ کی اچھی خبریں سنی ہیں ہم آپ سے راضی ہیں اب ہم آپ کو راجووال میں بھیج رہے ہیں اور حافظ صاحب نے مجھے کہا کہ آپ محترم قاری محمد ادریس ثاقب صاحب سے میری رضامندی بیان کردیں وہ ان شاء اللہ آپ کو بخوشی اجازت دے دیں گے ان شاء اللہ ۔ میں نے اپنے کزن محترم انجنیئر محمد شفیق صاحب کو اپنے ساتھ لیا اور محترم قاری ادریس صاحب کے پاس پہنچ گئے ان سے ساری بات بیان کی تو انھوں نے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استاد محترم حافظ محمد شریف صاحب کی چاہت کو میں ترجیح دیتا ہوں میں ان کے حکم کی مخالفت کرنے کی جسارت نہیں کرسکتا اور مجھ سے کہا کہ آپ نے عرصہ آٹھ سال ہمارے پاس گزارا ہے ہمیں آپ سے کوئی شکوہ نہیں اگر آپ کو کوئی ہے تو ہمیں بتا دیں اس پر راقم نے کہا کہ آپ نے مجھے بہت محبت دی مجھے آپ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں پھر قاری صاحب نے یہ بھی کہا کہ شیخ صاحب ہمارے دروازے آپ کے لئے کھلے ہیں جب بھی ہمارے جامعہ میں آنا چاہیں ہم آپ کی خدمات کے لئے حاضر ہیں ۔ راقم رمضان کے بعد جامعہ دارالحدیث راجووال میں پہنچ گیا جامعہ کی سال کی پہلی میٹنگ ہوئی اس میں راقم کو تدریس کے لئے درج ذیل کتب دی گئیں ۱:صحیح البخاری جلد اول ،۲: سنن ابی داود ،۳:سنن الترمذی ،۴:ہدایہ،۵:فقہ السنۃ۔ راقم نے کتب راجووال میں پڑھائیں الحمدللہ ۔،اور باقی میری تمام مصروفیات تحقیقی و تصنیفی تھیں ۔ میرے ساتھ تدریس کرنے والے جو شیوخ کرام تھے ان کے نام درج ذیل ہیں ۔ڈاکٹر عبدالرحمن یوسف ،شیخ عنایت اللہ امین ،شیخ رفیق زاہد ،شیخ عدنان ،شیخ عبدالباسط ،شیخ محمد آصف سلفی ،شیخ اور شعبہ حفظ میں قاری شفیق صدیق ،قاری عبیداللہ احسن ،قاری قاری نجیب اللہ اور شعبہ سکول میں پڑھانے والے سر عابد ، سر مولانا عمر فاروق ہاشمی حفظہم اللہ تھے اور سفیر جامعہ مولانا ھارون صاحب تھے ۔ راقم کے ذمے مکتبہ کی دیکھ بھال بھی تھی اور پانچ پریڈ پڑھانے کے علاوہ باقی اکثر وقت مکتبہ میں گزرتا ۔ راجووال میں رہنے کے ثمرات: راوجووال میں راقم نے جو کچھ ثمرات پائے ان کی تفصیل تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے مختصرتفصیل درج ذیل ہے ۔ ۱:بابا جی شیخ الحدیث محمد یوسف محدث راجووالوی رحمہ اللہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جن کی زندگی دین حنیف کے لئے وقف تھی ان کی زندگی کے کئی ایک عظیم کارنامے منکشف ہوئے بلامبالغہ وہ اپنی ذات میں ایک تاریخ تھے جب بھی مؤرخ تاریخ برصغیر پر قلم اٹھائے گا ان کا تذکرہ کئے بغیر نہ رہے گا ،فرحمہ اللہ۔ ۲:مکتبہ دارالحدیث راجووال جو کہ بابا جی کی ستر سال کی محنت کا نتیجہ تھا کو بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا جہاں تمام علوم کی بے شمارکتب کا جم غفیر موجود ہے وہاں پر چند الماریاں پرانی کتب پر بھی مشتمل ہیں یہ وہ کتب ہیں جو برصغیر کے عظیم محدث اور شارح سنن الترمذی مولانا محمد عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے جن سے استفادہ اٹھایا اور ان کتب کے مالک جناب محمد عبداللہ کھپیانوالوی رحمہ اللہ تھے جب مولانا مبارکپوری شرح ترمذی لکھ رہے تھے انھوں نے جناب عبداللہ کھپیانوالوی کو خط لکھا کہ مجھے کتابوں کی اشد ضرورت ہے اس کے جواب میں مولانا کھپیانوالوی نے اونٹوں پر اپنا مکتبہ لاد کر مبارکپور میں روانہ کر دیا سبحان اللہ جب ان کتب سے مبارکپوری صاحب نے بھر پور فائدہ اٹھا لیا تو سارا مکتبہ واپس کردیا ۔تقسیم ہند کے وقت یہ مکتبہ پاکستان آیا کھپیانوالوی رحمہ اللہ کی اولاد میں سے مولانا عبدالمنان رحمہ اللہ اور انکے بیٹوں نے یہ مکتبہ، مکتبہ دارالحدیث راجووال کو وقف کر دیا ۔۔۔۔۔فجزاہم اللہ خیرا ۔ اس مکتبہ کی ایک ایک کتاب کو بغور پڑھنے کا موقع ملا یہ ساری کتب اہم ترین مراجع و مصادر کی کتب تھیں اور تمام کتب تقریبا پہلے طبعے ہی تھے جن کو دیکھ کو محدثین کی محنت کا اندازہ ہوا کہ نہ ہی لکھائی واضح اور نہ پرنٹ پرتکلف سبحان اللہ ۔وہاں پر صحاح ستہ کے تراجم کے پہلے طبعات بھی موجود تھے جو انتہائی سادہ اور بوسیدہ حالت میں تھے ۔وہاں پر امام العصر نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کی بھی بے شمار کتب موجود تھیں اسی طرح سید نزیر حسین محدث دہلوی کے بعض شاگردوں کی بھی قیمتی کتب موجود تھیں مثلا مولانا محمد سعید محدث بنارسی ،مولانا محمد ابوالقاسم سعید بنارسی ،محدث ابوالمکارم ،محدث ابوالحسن سیالکوٹی ، وغیرہ ۔۔وہاں رہ کر ہی کم از کم بیس ہزار روپے کی قیمتی نادر کتب کی فوٹو کاپیاں کروائیں اور بعض نادر کتب پر تخریج وتحقیق کا کام بھی مکمل کیا ۔۔ ۳:راجووال کے نزدیک ببر کھائی میں شیخ عنایت اللہ امین حفظہ اللہ کے پاس بعض نادر خطوط تھے ان کو بغور دیکھنے کا موقع ملا ان کا تعلق ان کے گاوں ببر کھائی کے بعض اہل علم سے تھے جن میں سے ایک عظیم شخصیت ابوداود عبداللہ رحمہ اللہ کی تھی جو سید نزیر حسین محدث دہلوی کے شاگرد تھے اور یہ امام العصر نواب صدیق حسن خاں کو بھی ملے تھے بلکہ ان کا وظیفہ نواب صاحب نے مقرر کررکھا تھا اور بعض کتب کی تصحیح انھوںنے انھی سے کروائی تھی بھوپال سے ببر کھائ میں ڈاک آتی تھی ۔۔۔نیز اس گاوں کے بعض وہ اہل علم جو جامعہ رحمانیہ دہلی سے فارغ تھے ان کی اسانید دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہوا ۔۔۔ 4:اس جامعہ میں مہمان بہت کثرت سے آتے تھے ایک دفعہ اوکاڑہ قاری عبداللہ یونس اور ان کے بھائی مولانا عبداللہ یوسف حفظہما اللہ تشریف لائے ان سے رات گئے تک میٹنگ ہوئی انھوں نے محدث عبدالجبار کھنڈیلوی رحمہ اللہ کے اوکاڑہ دارالحدیث لانے کی کار گزاری سنائی اور بعض ظلم وستم کی داستان یں سنائیں ۔۔۔اسی ملاقات میں انھوں نے سید نزیر حسین دہلوی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد عبدالغنی رحمہ اللہ کا تذکرہ کیا جو رینالہ کے قریبی دیہات کسی جی ڈی میں رہتے تھے وہ پڑھنے کے لئے دہلی گئے اور واپسی پر وہ دہلی سے عورتوں کا سلہ ہوا لباس بھی ساتھ لائے اور انھوں نے اپنے علاقے کی عورتوں کو توجہ دلائی کہ اس طرح کا لباس سلائی کیا کرو بلکہ شروع شروع میں خود سلائی کرکے عورتوں کو لباس دیتے رہے اصل میں جی ڈی والے دیہات جانگلی تھے اور وہاں کی عورتوں کا لباس اس زمانے اس طرح تھا کہ جسم کا اکثر حصہ ننگا ہوتا تھا او ران کو کوئی سمجھانے والا نہیں نزیر حسین دہلوی صاحب کے تربیت یافتہ شاگرد نےاس علاقے میں آکر لوگوں کی بری تربیت کی اور جانگلیوں کو سیدھا کر دیا اللہ تعالی کی توفیق سے ۔ ۵:اس جامعہ میں رہ کر بابا جی کی اولاد عبداللہ سلیم مرحوم کے حالات معلوم کرنے کا موقع ملا اور ان کے فرزند ان :ڈاکٹر عبدالرحمن یوسف ،ڈاکٹر عبیدالرحمن محسن حفظھما اللہ کے ساتھ بہترین رفاقت کا موقع ملا راقم نےان بزرگوں سے بہت کچھ سیکھا اور بہت زیادہ کاموں میں اپنی ناقص آرابھی دیتا رہا راقم ان کے اخلاق کریمانہ سے بہت زیادہ متاثر ہوا ۔۔۔اخلاق عالیہ کی ایک مثال راقم نے اپنا جامعہ شروع کرلیا لیکن پورا سال کوئی مہینہ ایسا نہیں گیا جس میں انھوں نے راقم کو اپنے ادارے نہ بلایا ہو بلکہ پہلے سے بھی زیادہ بہتر تعلقات قائم ہیں بلکہ اپنا ادارہ شروع کرنے کے تقریبا ایک سال بعد راقم نے اپنی کتاب (نصیحتیں میرے اسلاف کی)کا مقدمہ شیخ عبیدالرحمن محسن حفظہ اللہ سے لکھوایا انھوں نے راقم ناچیز کے بارے میں درج ذیل خیالات کا اظہارفرمایا :(اے اللہ مجھے ان کے گمان کے مطابق کر دے آمین،الحسینوی) ابن بشیر الحسینوی کے متعلق پروفیسر ڈاکٹر عبید الرحمن محسن حفظہ اللہ کے تاثرات مجھے سردست کچھ مؤلف کے بارے گزارشات پیش کرنی ہیں۔ میں فضیلۃ الشیخ ابن بشیرd سے ذاتی طور پر ایک عرصہ سے واقف ہوں۔ خدمت دین، تحقیق و تصنیف، دعوت و تبلیغ تعلیم و تدریس کے حوالے سے جذبات کا ایک تلاطم ہے جو ان کی شخصیت میں سمو دیا گیا ہے۔ آسماں کی بلندیوں کو چھوتے عزائم، سمندر کی وسعتوں اور گہرائیوں سے بھی کچھ آگے بڑھتے ہوئے احساسات،شبانہ روز انتھک محنت اور ہمالیہ سے محو کلام جرأت و ہمت یہ ہیں الشیخ ابن بشیر الحسینوی، جیسے انہیں میں نے محسوس کیا ہے!!۔ دارالحدیث راجووال کے مکتبہ میں مسلسل کئی گھنٹے بیٹھے رہتے، کتابوں کے ڈھیر میں گم سم، ان کے ذوق مطالعہ کے پیش نظرمیں نے مکتبہ کی چابی انہی کو دے رکھی تھی۔ مطالعہ میں استغراق و انہماک کے باجود دنیا کے جدید حالات اور تقاضوں سے بھی آگاہ اور باخر، انٹرنیٹ پر مسلسل نہ صرف اکثر محدثین سے رابطے میں رہتے ہیں، بلکہ اولاً لائن تدریس مصروفیات بھی رکھتے ہیں۔ بالخصوص تدریس حدیث کے اسلوب و منہاج میں ہمارے عربی، ہمارے محسن ہمارے شیخ مکرّم، محدث العصر، فضیلۃ الشیخ حافظ محمد شریفd أستاذ الحدیث و پیش مرکز التربیۃ الإسلامیۃ فیصل آباد سے بھی بہت متاثر ہیں۔ منہج الدراسۃ المقارنۃ یعنی ایک ایک حدیث کو اصل مصادر سے پڑھنا، ان کے طرق و اسانید کو دیکھنا، الفاظ و کلمات اور تعبیرات کا مطالعہ کرنا، متعلقہ شروح الحدیث کی گہرائی میں جانا اور پھر ان سے احکام و سائل کا استنباط کرنا اور فقہ الحدیث میں مہارت حاصل کرنا…… یقینا اس منہج تدریس کی بدولت ہماری مادر علمی ’’مرکز التربیۃ الاسلامیۃ‘‘ سے علماء کی ایک کھیپ تیار ہوئی جو اس وقت متعدد دینی مدارس اور تحقیقی اداروں میں دقیع خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ہمارے ممدوح، فاضل دوست ابن بشیر صاحب اس منہج تدریس کا دینی مدارس میں احیاء کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح تحقیق و تصنیف کے حوالے سے بھی موصوف بڑے اچھے جذبات رکھتے ہیں۔ایسے خوبصورت جذبات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمارے فاضل بھائی نے گزشتہ سال شہر قصور میں جامعہ امام احمد بن حنبل کی بنیاد رکھی، میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس فاضل بھائی کے عظیم الشان منصوبہ جات کی تکمیل فرمائے، ان کیلئے مطلوبہ افراد و وسائل اپنے غیبی خزانوں سے مہیا فرمائے۔ شفاعت حفہ کے طور پر ہر قاری سے بالعموم اور شہر قصور کے احباب سے بالخصوص میری درخواست ہے کہ خیر کے ان کاموں میں موصوف کے دست و بازو بنیں تاکہ یہ کھل کر کام کر سکیں۔ وصل اللّٰہ وسلم و بارک علی النبی الکریم وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم بإحسنا إلی یوم الدین کتبہ الفقیر إلی اللّٰہ ابوسعد عبیدالرحمن محسن بن شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف مہتمم دارالحدیث الجامعۃ الکمالیۃ راجووال۔ ضلع اوکاڑہ 1436ھ 15-04-2015ء اس میں ان لوگوں کے لئے ایک نصیحت بھی ہے کہ جامعہ یا مسجد چھوڑ دینا کوئی معیوب نہیں لیکن اس چھوڑنے کو کفر واسلام کی جنگ سمجھنا اور عداوت پھیلانا معیوب ہے ۔۔ہر ہر انسان کو دین کی سربلندی کے اچھے اقدام اٹھانے کا حق ہے ۔۔ ۵:اس جامعہ ایک سال کے دوران بہت زیادہ تعلمی اصلاحات نافذ کروائیں اور طلبہ میں تحقیق و فکری منھج عام کیا سب سے اہم بات یہ ہے کہ مکتبہ دروازے چوبیس گھنٹے کھلوا ئے اور الحمدللہ اب بھی مسلسل دروازے کھلے ہیں طلبہ ڈٹ کر فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔۔۔میرے جانے سے پہلے مکتبہ کی صورت حال کافی پریشان کن تھیں ۔۔۔۔ہر اچھی بات شیخ محسن صاحب چند مجلسوں کے بعد مان جاتے تھے ۔۔۔ ۶:راقم نے راجووال میں سب سے اہم کام شرح صحیح بخاری والا کام تھا جس کی خاطر شیخ محسن صاحب نے میر بہت زیادہ ساتھ دیا بلکہ یہاں تک کہ اس پر مراجع و مصادر کی کتب جو بھی میں کہتا وہ فورا منگواتے اور میں اس سے فائدہ اٹھاتا ۔۔اور مجھے یہ بھی سہولت مہیا کی جامعہ کے پرنٹر سے مجھے اجازت دی گئی کہ جب بھی ابن بشیر کو کسی پرنٹر کی ضرورت ہو تو فورا نکا ل کر دیا جائے ۔۔۔۔ اور شرح صحیح بخاری پر کام کرنے کے دوران مسلسل اپنی ذاتی آمدنی سے میری مالی معاونت بھی کرتے رہے اور ابھی تک وہ معاونت کئی ایک شکلوں  میں جاری و ساری ہے فجزاہ اللہ خیرا۔بلکہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں جب کوئی مشکل آتی ہے تو فورا اس میں میراساتھ دیتے ہیں ۔۔ المختصر دارالحدیث میں رہ کر مجھے بہت فائدہ ہوا اور اب بھی مسلسل اس سے فائدہ اٹھا رہا ہوں اور مرنے تک فائدہ اٹھا تا رہوں گا اس جامعہ کی انتظامیہ نے میری بڑی قدر کی اور اب بھی کرتے ہیں فجزاھم اللہ خیرا۔

Friday, 27 February 2015

تالیفات و تحقیقات لفضیلۃ الشیخ ابن بشیر الحسینوی


عربی کتب: ۱: تنبیہ المحققین علی تدلیس المدلسین المعروف بموسوعۃ المدلسین ۲: الفتح الجلیل فی ضوابط الجرح والتعدیل ۳: النصیحۃ لمن اراد قبول النصیحۃ فی التعلیق علی انوارالصحیفۃ ۴: الاعلان فی معرفۃ من قیل فیہ لم یسمع عن فلان ۵: التّبیین فی شرح اصل السنّۃ واعتقاد الدین ۶: معجم الضعفاء والمجھولین (تحت الترتیب) ۷: موسوعۃ الأحادیث الشاذۃ ۸: الرد علی الھدایۃ للمرغینانی ۹: علوم الحدیث عندالشیخ الالبانی ۱۰: تعلیقات علی تیسر مصطلح الحدیث للدکتور محمود طحان ۱۱: موسوعۃ القواعد الفقہیۃ ۱۲: زاہد الکوثری فی میزان الامام الالبانی رحمہ اللہ ۱۳: فقہ المحدثین عن احادیث صحیح البخاری۔ ۱۴: حاشیۃ مشکوۃ المصابیح لطلبۃ الجامعات ،تحت الترتیب ۔ ۱۵: تعلیقات الشیخ الاثری حفظہ اللہ علی سلسلتی الامام الالبانی رحمہ اللہ ۱۶: التقریر علی التقریب ۱۷:الرجال عند علماء الاحناف جرحا وتعدیلا ۱۸:سکوت المحدثین عن درجۃ الحدیث ۱۹:الرد القوی علی العرف الشذی ۲۰:الاحادیث الضعیفۃ عندالامام البخاری ۲۱:البرھان فی تناقضات ابن حبان ۲۲:تلخیص الکواکب النیرات (ھذہ کتب ماطبعت لکن بعضھم مبطوع علی انترنیت) ۲۲:موسوعۃ احادیث الصیام اردو کتب: ۲۳: شرح صحیح مسلم فی ۷ ،اجزاء تحت الطبع فی باکستان ۲۴: شرح مقدمہ صحیح مسلم ۔تحت الطبع۔ ۲۵: شرح الجامع الترمذی فی ۵،اجزاء۔غیر مطبوع۔ ۲۶: شرح مسند الحمیدی ۔تحت الطبع ۲۷: حاشیہ السنن الکبری للبیہقی تحت الترتیب ۲۸: ائمہ قراء ت جر ح و تعدیل کی میزان میں (رشد قراء ت نمبر میں مطبوع ہے ) ۲۹: اصول تخریج و تحقیق۔طبع علی انترنیت۔ ۳۰: حسن لغیرہ حدیث کی حجیت پر وارد اشکالات کا علمی جائزہ ۔مطبوع علی انترنیت ۔ ۳۱: سلسلۃ الاحکام الصحیحۃ طبع الجزء الاول ۳۲: سلسلۃ الاحکام الضعیفۃ ۔ما طبع ۳۳: فرق باطلہ کے تعاقب میں ۔طبع البعض فی الرسائل وانترنیت۔ ۳۴: بالوں کا معاملہ ۔مطبوع ۳۵: جانوروں کے احکام۔ تحت الطبع ۳۶: التقریب لعلوم الشیخ المحدث ارشاد الحق الاثری حفظہ اللہ۔ ما طبع ۔ ۳۷: نصیحتیں میرے اسلاف کی۔تحت البطع ۔ ۳۸ سفر نامہ ابن بشیر الحسینوی ۔طبع علی انترنیت۔ ۳۹: گھر کا دینی نصاب ۴۰: جاہلوں کی دنیا ۴۱: مساجد کے احکام۔ مطبوع ۴۲: الرد علی القدوری۔ غیر مطبوع ۴۳: الرد علی الھدایۃ للمرغینانی۔غیر مطبوع ۔ ۴۴: شرح صحیح بخاری پرم کام جاری ہے ۴۵: طہارت کے احکام ۴۶: جوتے اور پاؤں کے احکام ۴۷: درس ترمذی از تقی عثمانی کا تعاقب ۴۸: آثار السنن کا تعاقب ۴۹: میں محدث کیسے بنوں؟ ۵۰: عورت کے گھر سے نکلنے کے احکام مراجعت و تخریج و تحقیق: ۵۱: تحقیق وتخریج مسند الإمام احمد بمشارکۃ بعض الاخوۃ وہو مطبوع من دارالسلام الریاض ۵۲: تحقیق بلوغ المرام تحت الطبع فی باکستان۔ ۵۳: تحقیق وتخریج الإصلاح (الجزء الثانی)لمحمد الجوندلوی رحمہ اللہ۔مطبوع ۵۴: تحقیق وتخریج کتاب الاذان لعبدالقادر الحصاری رحمہ اللہ ۔تحت الطبع۔ ۵۵: تحقیق و تخریج الصحیحین لعبدہ الفلاح رحمہ اللہ۔غیر مطبوع۔ ۵۶: تحقیق و تخریج ادعیۃ الرسول لعطاء اللہ حنیف البھوجیانی رحمہ اللہ ۔ماطبع۔ ۵۷: راجع ’’تحقیق المعجم المختص للحافظ الذھبی ‘‘رسالۃ دکتورۃ للشیخ الدکتورمحمد عبدالرحمن یوسف حفظہ اللہ۔تحت الطبع ۔ ۵۸ وراجع وقابل علی النسخ المطبوعۃ من الکتب الحدیثیۃ وصحّح،الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل للمحدث ضیاء الرحمن الاعظمی المدنی فی۲۰ مجلدا ۔بمشارکۃ بعض الاخوۃ وہو تحت الطبع فی دارالسلام الریاض۔ ۵۹: و راجع ترجمۃ صحیح ابن حبان۔تحت الطبع ۔ ۶۰: المعلقات فی صحیح البخاری ۔دراسۃ علمیۃ ومنھجیۃ مع التحقیق و التخریج ۶۱تا۷۵ : تخریج و تحقیق و تصحیح کتب محمد سعید محدث بنارسی ۷۶: الآن ھو یعمل علی کتب بعض تلامیذ السید المحدث نزیر حسین دہلوی رحمہ اللہ ۔ ۷۷: تخریج و تحقیق تحفۃ الجمعۃ لشیخ محمد یوسف راجووالوی رحمہ اللہ ۷۸: تخریج وتحقیق اہل حدیث کے امتیازی مسائل ۷۹: تخریج و تحقیق زیارت قبور از اسماعیل سلفی رحمہ اللہ ۸۰: تخریج و تحقیق شرکیہ دم جھاڑ پر فیصلہ کن بحث از محدث روپڑی وغیرہ نوٹ:بعض مخطوطات دیکھنے کا موقع نہیں ملا ورنہ ان میں بھی کئی ایک میری ذاتی کتب کے مخطوط مل جائیں گے ۔

Tuesday, 17 February 2015

میں محدث کیسے بنوں ؟


تالیف ابن بشیر الحسنیوی حفظہ اللہ اللہ تعالی کی توفیق سے راقم نے 1999کو دینی علم کی تعلیم کی ابتداء جامعہ لاہور الاسلامیہ سے کی غالباً 2001 کی ابتداء میں دینی مکتبوں کی طرف سفر شروع کر دیا اس سفر کی تفصیل اس نیت سے لکھ رہاہوں شاید کسی بھائی اس سے کوئی نصیحت حاصل اور کوئی خیرکی بات ملے ۔ راقم نے اپنے کزن مولانا آصف محمود بن محمد حسین سے ایک دن پوچھاکہ محترم ! قریب کوئی دینی کتب کامکتبہ ہے میں مطالعہ کرنا چاہتاہوں ،انھوں نے کہاکہ کچھ دور ہے ۔میں نے کہا کہ مجھے دکھا دیں ایک دفعہ پھر میں خودچلاجایاکروں گا۔تو وہ مجھے ایک دن عصر کے بعدجامعہ لاہور الاسلامیہ کے مکتبے مکتبہ رحمانیہ میں لے کر گئے ! دکھایا اورواپس لے آئے ۔ فجزاہ اللہ خیرا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس ترتیب سے راقم نے مختلف مکتبوں کی طرف سفر کیا اسی ترتیب سےلکھنے کی کوشش کی جائے گی ان شاءاللہ ۔یہ سب کچھ محض اللہ تعالی کی رضا کے لئے اور طلباء علوم نبوت کو فکر دینے کے لئے کہ علماءکرام کےدینی مکتبوں کی طرف سفر ہم کیوں نہیں کرتے ۔ایک نصیحت اور خیر خواہی کےجزبے سے لکھ رہا ہوں اور کوئی مقصد نہیں ۔جس چیزسے مجھے فائدہ پہنچا شایداسی کواپنا کر کسی دوسرے بھائی کوبھی فائدہ پہنچ جائے ۔ان شاء اللہ مکتبہ رحمانیہ 91 بابر بلاک جے ماڈل ٹاون لاہور یہ وہ مکتبہ ہے جس میں راقم نے زمانہ طالب علمی کا کافی وقت گزارا ۔ روزانہ نماز ظہر کے بعد جامعہ لاہورالاسلامیہ کی کلاس سے چھٹی ہو جاتی تھی۔تو نماز کے فوراً بعد اپنی کاپی لے کر مکتبہ کی طرف سفر کرتا اور تقریباً نماز مغرب تک رہتا بسا اوقات تو نماز عشاء بھی مکتبہ کی چھوٹی مسجد میں ہی ادا کرتا۔اس مکتبہ سے راقم نے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا اس زمانے میں مکتبہ میں استاد محترم شیخ آصف اریب اور ان کے ساتھ ایک اور افغانی شیخ موسوعۃ القضائیۃ پر کام کر رہے تھے استاد محترم شیخ رمضان سلفی شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ کا بھی کافی آنا جاناہوتاتھا اور ادھر آکر لکھتے تھے ۔حضرت مولانا عبدالجبار سلفی آف رینالہ خورد بھی مکتبہ میں ہی اپنی ذمہ داریاں سر انجام دہتے تھے اسی طرح شیخ اختر جو اب پروفیسر ہیں وہ بھی مختلف کتب کے تراجم کرتے تھے جو بات سمجھ نہ آتی میں مذکورہ شیوخ سے پوچھ لیتا اور وہ مجھ سےبہت پیار کرتے۔بسا اوقات کھانا بھی اپنےساتھ بٹھا کرکھلا دیتے ۔فجزاہم اللہ خیرا ۔ ان کی شفقت نے مزید مطالعہ کی تڑپ پیدا کی انھیں دنوں میں نے اردو بازارسے ایک کتاب ( متاع وقت اور کاروان علم) خریدی اور اس کا مطالعہ بھی کیاتو اس کتاب کے مطالعے کے بعدنیندیں اڑ گئیں بس مطالعہ کی فکر دامن گیر رہتی۔والحمد للہ علی ذلک اس مکتبہ میں مختلف سیکشنوں میں کتب تقسیم تھیں تو راقم نےدن مقرر کیے ہوتے تھےکہ ایک ہفتہ کتب رجال کا مطالعہ کرنا تو اگلے ہفتے کتب حدیث کا پھر کتب فقہ کا پھر کتب احناف کا وغیرہ کا۔اس مکتبہ میں تمام رسالوں کی الگ لائبریری بھی تھی بلکہ ادارہ نےتمام رسالوں کے تمام شمارے بھی جمع کئے ہوئے تھے ان سے بھی خوب فائدہ اٹھاتا۔ اس مکتبہ کےدوران دوباتیں خاص قابل ذکر ہیں۔ نمبر1: کئی دفعہ جب میں نماز عشاء کے بعد جامعہ لاہورالاسلامیہ میں پہنچتا تومیرےساتھی میراکھانا نہ رکھتے اور مجھے بھوک بھی ستاتی تو میں باورچی خانہ جا کر بچوں کے کھانے سے بچنےوالے ٹکڑےکھاکر گزارہ کرتا اور مجھے ان باقی ماندہ ٹکڑوں کے کھانے سے بہت لذت آتی ۔ 2نمبر: اس مکتبہ میں مجھے شیخ ارشادالحق اثری حفظہ اللہ کی بعض کتب کا مطالعہ کرنے کا موقع بھی ملا اس کی وجہ سے میرےدل میں شیخ سے محبت ہو گئی اوران سےملاقات کی دعائیں کرنےلگا ۔ ایک دن میں مکتبہ میں بیٹھ کرمطالعہ کر رہاتھا کہ شیخ عبدالرحمن مدنی حفظہ اللہ منتظم و بانی جامعہ لاہور الاسلامیہ اپنے ساتھ ایک سفید داڑھی والےایک بزرگ کو ساتھ لائے اور ان کو کرسی پر بٹھاکر خود کھڑے رہے اور اپنے تمام منصوبوں کا تعارف کروانےلگے کہ ہم موسوعہ قضائیہ تیار کروارہےہیں وغیرہ وغیرہ،اسی دن استاد محترم شیخ حسن مدنی حفظہ اللہ کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تھی تو اس کی خوشی میں مٹھائی وغیرہ بھی کھلائی گئی میں اس دورن اپنےمطالعہ میں مصروف رہا مٹھائی بھی کھائی۔پھر وہ بزرگ چلے گئے تو کچھ وقت گزرنے کے بعدمیں نےبھائی اصغر لائبریرین سےپوچھا کہ محترم !یہ بزرگ کون تھے ؟ انھوں نے کہا:کہ یہ فیصل آبادکے بہت بڑے عالم دین شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ تھے ۔ سبحان اللہ میں بہت خوش ہوا ،کہ آج جس شخصیت سے میں محبت کرتا تھاوہ خود تشریف لے آئے ہیں والحمدللہ ۔ لیکن پریشانی بھی ہوئی کہ ان سے سلام دعا نہ ہو سکی بس زیارت ہی ہوئی ان کی زیارت سے محبت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ۔ شاید یہی تڑپ تھی کہ اللہ تعالی نے ان سے تین سال مسلسل پڑھنے کامرکز التربیۃ الاسلامیہ فیصل آباد میں موقع عطافرمادیا ۔سبحان اللہ اس مکتبہ میں رہ کر پہلے تمام کتب کا تعارف کیاجب چند مہینےتعارف میں گزر گئے تب علمی کام کی ابتداء کی ۔ چند کتب زمانہ طالب علمی میں اس لائبریری میں بیٹھ کرلکھنےکی توفیق ملی۔مثلا 1: سب سے پہلےپیارے رسولﷺ کی پیاری دعائیں کی تخریج و تحقیق شروع کی اور اس کام کی ڈیوٹی مجھے استاد محترم شیخ عبدالرشید راشدرحمہ اللہ نےسونپی چند ماہ میں اس کتاب کی تخریج و تحقیق مکمل کی۔جس پر استادمحترم نے کافی داد دی اور اپنےگھر میں میری دعوت کی اورانعام سے نوازا۔ 2: اسی دوران درجہ رابعہ میں سنن نسائی کی پڑھائی جاری تھی۔پھر جن راویوں کو امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا خواہ سنن النسائی میں ہوں یا انکی کسی اور کتاب میں ان پر کام کیا اور کافی رواۃ جمع کیے۔ 3: پھر شیخ البانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’ خبر الآحاد حجۃ بنفسی فی العقائد والاحکام‘‘ کی تلخیص کی۔یہ کام استاد محترم قاری حمزہ مدنی حفظہ اللہ کے حکم پر کیا۔ اسی دوران کئی اور بھی کام کئے لیکن فی الحال مجھے تین یاد ہیں اساتذہ اورجامعہ کے طلباء کئی باتوں کی تحقیق و تخریج میں میری طرف رجوع کرتے راقم پھر انکی تحقیق وغیرہ کرکےبتلاتا۔ جس سے مجھے مزیدکتب بینی کاشوق ہوا ۔والحمدللہ علی ذلک ۔ نوٹ: درسی کتب کا مطالعہ میں نماز عشاء کے بعد شروع کردیتا جب تک سبق یاد نہ کر لیتااور آگے مطالعہ نہ کرلیتا تب تک نہ سوتا ،اور بے شمار راتیں ایسی گزری ہیں کہ زمانہ طالب علمی کمر بستر پرنہیں لگائی۔ویسے بھی جامعہ کے پہلے سال میرا بستر گم ہوگیا پھر بستر کی نوبت ہی ختم کر دی،تھوڑا بہت سونا ہوتا تھا یا تو پھٹی پرسر رکھ کر سو جاتا یا پھر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا اور نیند پور کر لیتا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ قاری محمد ابراہیم میر محمدی حفظہ اللہ مذکورہ جامعہ سے متصل محترم قاری صاحب کی رہائش تھی اور ان کی بیٹھک میں ان مکتبہ تھا ادھر بھی اکثر جاتا رہتا۔محترم قاری صاحب شفقت فرماتےاورمختلف قرات کی کتب کا تعارف کرواتے ۔ان کے پاس زیادہ کتب قرات پرہی تھیں ۔ مجھے اپنی زمانہ طالب علمی کی لکھی ہوئی کاپیاں بھی دکھاتے ،مجھے اس مکتبہ سے بھی کافی فائدہ پہنچا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ رشد یہ مکتبہ بھی جامعہ کی بیسمنٹ میں تھا اسمیں زیادہ تر درسی کتب تھیں لیکن بعض دیگر کتب بھی تھیں ان سےبھی فائدہ اٹھانےکاموقع ملا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ ربانیہ شیخ مبشراحمدربانی حفظہ اللہ کا مکتبہ جو زمانہ طالب علمی میں سکیم موڑ مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میں ہوا کرتا تھا کئی مرتبہ جمعہ کا خطبہ شیخ مبشر صاحب کے پیچھےپڑھنا نماز جمعہ کے بعد ان کے مکتبہ میں بیٹھنا مطالعہ وغیرہ کرنا۔اس مکتبہ سے بھی کافی فائدہ اٹھایا اب یہی مکتبہ شیخ کی اپنی رہائش گاہ سبزہ زار میں موجود ہے ،ماشاء اللہ بہت قیمتی مکتبہ ہے شاید اتنا قیمتی کسی اور اہل علم کے پاس نہیں ہے ،اب بھی جب ضرورت مراجع و مصادر کی پڑتی ہے تو مکتبہ ربانیہ کی طرف ہی رجوع کرتا ہوں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ شیخ عبدالرشیدراشد رحمہ اللہ استاد محترم کا یہ چھوٹا سا مکتبہ بھی قابل تعریف تھا اس سے بھی فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا رہتا کیونکہ شیخ صاحب گاہے بگاہے اپنے دولت خانہ میں آنے کی دعوت دیتے رہتے تو ان کی بیٹھک میں گئے رات تک علمی مجلس لگتی بسا اوقات تو دو بج جاتے،جب راقم مرکز التربیۃ الاسلامیہ پڑھتا تھا تو استاد محترم کی ہدایت تھی کہ جب چھٹیوں کے لئے تم نے اپنے گھر جاناہے تو ایک رات میرے پاس ضرور قیام کرنا ہے ،اس دوران مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، راقم نے استاد محترم کے حالات پر ایک رسالہ لکھا ہے اس میں تمام تفصیلات کا ذکر کیا ہے فرصت ملتے ہی اسے بھی شائع کیا جائے گا ان شاء اللہ جس میں طلباء علوم نبوت کے لئے بہت زیادہ رہنمائی کی گئی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ راشدیہ نیو سعیدہ آباد سندھ یہ مکتبہ شیخ العرب والعجم حضرت الامام بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کاہے زمانہ طالب علمی جامعہ لاہورالاسلامیہ کے دوران ہی اس میں تقریباً چار دن رہنےکا موقع ملا۔اور اس سے بہت فائدہ اٹھایا کیونکہ اس میں نادر مخطوطات کےانبارتھے ،اور حدیث اور اصول حدیث پر کیا کمال کتب دیکھنے کا موقع ملا اس طرح ایک عظیم محدث اور امام کا وہ مکتبہ جہاں ہزاروں علم کے پیاسوں نے اپنی پیاس بجھائی اس کو غورسے دیکھااور کافی فوائد ملے اور اس مکتبے کافیض آج بھی جاری ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ سعیدیہ،پیر آف جھنڈا ،سندھ یہ مکتبہ شیخ محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کا تھا اس میں بھی چند گھنٹے ٹھہرنے کا موقع ملا یہ بھی قابل تعریف ہےلیکن شاہ بدیع الدین رحمہ اللہ کے مکتبہ کا مقابلہ کون کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ مرکز الدعوۃ السفیہ ستیانہ بنگلہ جامعہ لاہور الاسلامیہ میں دوران تعلیم کےدوران ایک رمضان شیخ الحدیث والتفسیر عبداللہ امجد چھتوی حفظہ اللہ کے پاس سے دورہ تفسیر کرنے کا موقع ملا اس دورے کی تفصیلات موضوع سے خارج ہیں ،اس جامعہ میں ایک چھوٹا سامکتبہ بھی تھاصرف عصر کے بعد اوپن ہوتا تھا وہ بھی بہت تھوڑا وقت اس میں جایا کرتا اور کچھ پڑھنے کا موقع ملتا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ بیت الحکمت لاہور یہ مکتبہ پروفیسر عبدالجبار شاکر رحمہ اللہ کا تھا اس کی بلڈنگ تین منزلوں پر محیط تھی ،ایک منزل میں توصرف علامہ اقبال اور دیگر موضوعات پرکتب تھیں اور دوسری منزل میں سیرت النبیﷺ پر کتب اورتیسری منز ل میں مخطوطات اور قرآن کریم کے متعلقہ کتب تھیں اگر کہا جائے کہ سیرت النبیﷺ پر برصغیر میں سب سےزیادہ کتب اسی مکتبہ میں ہیں تو یہ سچ ہو گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ مرکز التربیۃ الاسلامیۃ گلستان کالونی ،فیصل آباد جب اللہ تعالی کی توفیق سے مجھے تخصص کے لئے اس مرکزمیں داخلہ ملا تو ایک بہت بڑی لائبریری میں ہی تین سال رہے کلاس، مطالعہ اور اضافی ٹائم بھی اسی لائبریری میں گزرتا۔یہاں مجھے مزید مطالعہ کا موقع ملا اور کوئی لمحہ بھی ضائع نہ جانے دیا بلکہ نماز ظہر کے دیگر طلباء سوتے تھے تو راقم مکتبہ میں ہی ہوتا تھا۔اسی طرح نماز عصر کے بعد طلباء کھیلنے کے لئے باہر جاتے تو اکثر و بیشترمکتبہ میں رہتا،نماز عشاء کے بعد مطالعہ کے وقت کے ختم ہونے کے بعد مزید وقت مکتبہ میں ہی گزارتا۔اس مکتبہ کے دروازےچوبیس گھنٹے طلباء کے لئے کھلے رہتے تھے یہ مثال کسی بھی جامعہ میں دیکھنے کو نہیں ملی،استاد محترم حافظ محمد شریف حفظہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے علماء کرام کی ذہنی اور علمی وسعت کے لئے کتب جمع کی ہیں اور لائبریری کادروازہ کھلا رکھتے ہیں تاکہ وہ فائدہ اٹھائیں اور اپنی صلاحیتوں کاجلا بخشیں ۔ اس مکتبہ میں بیٹھ زمانہ طالب علمی میں ہی کافی علمی و تحقیقی کتب لکھنے کا موقع ملا۔ مثلاًً 1:موسوعۃالمدلسین 2:بالوں کےاحکام 3:سترہ کے احکام 4:التبیین فی شرح اصل اہل السنۃ و اعتقادالدین 5:البرہان فی تناقضات ابن حبان 6:اصول المحدثین فی فہم المحدث الالبانی 7:علوم حدیث اور شیخ ارشاد الحق اثری 8:علوم حدیث اور شیخ زبیر علی زئی 9:معجم المجہولین 10:الاعلان فی معرفۃ من قیل فیہ لم یسمع من فلان 11:تحقیق و تخریج الاصلاح حصہ دوم ابھی مجھےان کتابوں کے نام یاد ہیں اس کے علاوہ بھی کئی کتب لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ،سب سے زیادہ قابل ذکر یہ بات تھی کہ اساتذہ کرام شیخ ارشاد الحق، شیخ مسعود عالم، شیخ حافظ محمد شریف حفظہم اللہ دوران تدریس جب بھی کوئی مسئلہ یا اصول وغیرہ کا ذکر کرتے تو اصل کتب سے دکھاتے اور ہمیں کہتے کہ فلاں کتاب پکڑو یہ انداز ہی تدریس میں ہونا چاہئے۔صرف زبانی پڑھاتے جانا اس انداز میں فوائد کم ہیں اور دوران کلاس اساتذہ کرام ہمیں کچھ حوالہ جات قیمتی بحوث کے لکھوا دیتے کہ تم نے خودپڑھ کے آنے ہیں۔کاش یہی انداز تمام مدارس وجامعات میں ہوجائے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ ادارہ علوم اثریہ منٹگمری بازار فیصل آباد یہ وہ مکتبہ ہے جہاں محدث العصر شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ سارا دن ہوتے ہیں تحقیقی و بے مثال علمی کتب لکھتے ہیں ۔اس مکتبہ میں بھی مجھےکافی وقت گزارنے کا موقع ملا مثلاً جب مرکزسے چھٹیاں ہوتیں گرمی یا رمضان کی تو راقم گھر جانے کی بجائے شیخ اثری حفظہ اللہ کے پاس ہی جاتا اور انکے اسی مکتبہ میں ٹھہرتا۔ جس سے بہت کچھ ملا اور خصوصاً شیخ اثری حفظہ اللہ شفقت اور علمی رہنمائی قابل دید ہے ۔ اس مکتبےمیں شیخ صاحب پہلےتو میری خاص کتب پڑھنےکی لگاتے رہے مثلا الوہم والایھام وغیرہ ، پھر مختلف موضوعات لکھواتےکہ فلاں پر کام کرو ،اس فتویٰ کاجواب لکھو ،وغیرہ وغیرہ ۔فلاں راوی پر حکم دیکھو کیا ہے ،فلاں اصول کے متعلق تحقیق کرو ۔ اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا الحمدللہ ۔ اس دوران مجھے کچھ لکھنے کو موقع ملا مثلاً 1:صحیح و ضیعیف صیام 2:تحقیق الثقات الذین ضعفوا فی بعض شیوخہم اور بھی کام کئے لیکن ابھی مجھے یہی دو یاد ہیں پہلا مکمل ہے اور دوسرا کام نا مکمل ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ اسحاق جھالوی فیصل آباد مشہور گمراہ شخص اسحاق جھالوی کے متعلق جب کچھ سنا تو میں نے ان کی مکتبہ کی طرف سفر کیا تاکہ اپنی آنکھوں سے صورت حال دیکھوں۔جب ان کے پاس حاضر ہوا تو وہ اپنے مکتبے میں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔تو اور مختلف کتب کے ساتھ ساتھ کتب شیعہ بہت زیادہ تھیں۔اس مکتبہ سے بھی مجھے کتب شیعہ کو بغور دیکھنےکا موقع ملا اور ایک رافضی شخص سے تبادلہ خیال کا بھی موقع ملا جس سے مجھے عین الیقین ہوگیا کہ اس کے گمراہ ہونےمیں کوئی شک نہیں ۔اس میں دو دن قیام کیا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری،اٹک دوران طالب علمی مرکز التربیۃ میری ملاقات مرکزا لدعوۃ السلفیہ ستیانہ بنگلہ میں شیخ امن پوری صاحب سے ہوئی کچھ سوال و جواب ہوئے تو خوشی اور میں نے ان سےاستفادے کا ٹائم مانگا تو شیخ صاحب فرمانے لگے: رمضان میں کوئی حساب لگائیں گے۔پھراسی رمضان میں شیخ نے مجھے اطلاع دی کہ میرے گاؤں امن پور اٹک میں آجاؤ رمضان اکٹھے گزاریں گے۔ تو میں حسب وعدہ کافی لمبا اور عجیب و غریب سفرکرکے وہاں پہنچا جو بیک ورڈ دیہات تھااور اس میں کافی پرانی رسم و رواج کو قریب سےدیکھنےکا موقع ملا۔ ان ذکرکا موضوع سےخارج ہے ۔شیخ صاحب سےآثارالسنن پڑھی اسی طرح القواعد المثلی بھی مکمل پڑھنے کا موقع ملا ۔ یہ رمضان مسجد میں میں ہی گزارا اور مسجد میں شیخ نے اپنی کتب رکھی ہوئی تھیں ،کتب اگرچہ تھوڑی تھیں لیکن قیمتی تھیں خصوصا فرق باطلہ کی کچھ نادرکتب بھی تھیں فارغ وقت میں اس مکتبہ سے فائد اٹھا یا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ زبیریہ حضرو اٹک دوران تعلیم مرکز التربیۃ الاسلامیہ فیصل آباد شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی طرف سفر کیا اور تقریباً چار دن ان کے مکتبہ میں ٹھہرا اور کافی سیکھنےکا موقع ملا اور ان کا مکتبہ بھی کافی وسیع پایا۔بہت فوائد ملے اور کافی مطالعہ کابھی وقت میسر آیا۔ فجزاہ اللہ خیرا ۔اور کچھ بحوث میں شیخ صاحب سے تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ شیخ غلام اللہ رحمتی پشاور اس مکتبہ کی طرف سفر کیا لیکن شیخ رحمتی حفظہ اللہ سعودی عرب دورے پر گئے ہوئے تھے اس لئے مکتبہ کی زیارت نہ ہو سکی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ پشاور شیخ صاحب سے ملاقات ہوئی ان کے منہج پر گفتگو کی اور اس دوران مکتبہ دیکھنےکا موقع بھی ملایہ چھوٹےسےکمرےمیں مکتبہ تھا اور کتب بھی اتنی زیادہ نہ تھیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ شمسیہ پشاور یہ مکتبہ شیخ شمس الحق افغانی رحمہ اللہ کاتھا ، سبحان اللہ بہت بڑا مکتبہ اور کافی وسیع و عریض بلڈنگ میں تھا ہرسیکشن الگ الگ بنایا ہواتھا میرےاندازے میں دو کنال زمین پر محیط پریہ مکتبہ ہوگا ،اور اس کے ساتھ ہی شخ کاجامعہ اثریہ پشاور بہت ہی وسیع و عریض تھا جہاں ہزاروں طلباء پڑھے ہیں میں نےاس مکتبہ میں طلباء کی کثیر تعداد مطالعہ کرتے ہوئے دیکھی اور کچھ فائدہ اٹھایا ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ شیخ عبدالسلام رستمی حفظہ اللہ پشاور اس مکتبہ کی طرف سفرکا پکا پروگرام تھالیکن شیخ شمس الحق رحمہ اللہ کے بیٹوں نے کہاکہ تم اکیلے سفر نہ کرو کافی لمبا سفر ہے اور خطرناک بھی جس وجہ سے میں وہاں نہ پہنچ سکا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ محدث نورپوری رحمہ اللہ گوجرانوالا یہ مکتبہ استاد محترم محدث عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ کا تھا ان کی بیٹھک مکتبہ ہی تھی۔ مہمانوں کو اس میں ہی بٹھاتے تھے ،مختصر مگر جامع مکتبہ تھا سبحان اللہ یہیں بیٹھ حضرت الامام نورپوری رحمہ اللہ نے بے شمار قیمتی اور نادر کتب تالیف فرمائیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ مدرسہ ماموں کانجن یہ بھی بہت بڑا مکتبہ ہے لیکن دیکھ کر پریشانی ہوئی کہ کتب پڑھنے والا کوئی بھی نہیں بلکہ کتب گردو غبارسے لت پت تھیں ۔فاناللہ واناالیہ راجعون ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتبہ حسینویہ یہ مکتبہ شیخ ابونعیم عبدالرحیم حسینوی رحمہ اللہ آف حسین خانوالا ہٹھاڑقصور کا تھاجوکہ دہلی سے فارغ تھے اور اپنے وقت کے بڑے شیوخ سے تھے ۔ ماشاء اللہ انتہائی مختصرمکتبہ لیکن بہت ہی قیمتی کتب مگر افسوس کہ اکثر کتب دیمک لگی ہوئی تھی اور جوبچی تھیں وہ اس قدر بوسیدہ کہ ورق کوہاتھ لگاتے ہی ورق پھٹ جاتا ۔جب سےمیں اس مکتبہ کو دیکھ رہا ہوں تو اس وقت سےیہ مکتبہ الماریوںمیں پڑا ھے ۔

Monday, 16 February 2015

محترم شیخ ابن بشیر الحسینوی صاحب کا انٹرویو


بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد ​ فالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! [​IMG] محترم شیخ ابن بشیر الحسینوی صاحب کا انٹرویو [​IMG] قارئین کرام ! اب کی بار علمی محفل لگے گی ایک ایسی شخصیت کے ساتھ جن سے انٹرنیٹ پر موجود اکثر اہل علم حضرات بخوبی واقف ہیں ، مجھے ان کے لیے تعارفی کلمات کہنے کی ضرورت نہیں ، اور یقینا قارئین بھی ’’ ان کی کہانی انہیں کی زبانی ‘‘ سننے کے لیے بے تاب ہوں گے ، تو آئیے محترم شیخ صاحب سے ان کے علمی و دعوتی سفر کی روائیداد سنتے ہیں ، اور جانتے ہیں کہ موصوف کی گھریلو اور سماجی زندگی کیسی ہے ۔ [​IMG] 1۔ اپنے مکمل نام ، کنیت ، لقب وغیرہ سے آگاہ کریں ۔​ 2۔ آپ کی رہائش کہاں ہے ؟ وہاں کا ماحول کیسا ہے ؟​ 3۔آپ کی تعلیمی قابلیت کیا ہے ، ؟مزید اپنی دینی تعلیم کا سفر کیسے اور کہاں سے شروع کیا، اور کیا آپ کو اس دوران کسی مشکل کا سامنا ہوا؟​ 4-زمانہ طالب علمی میں اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ کے ساتھ کیسا وقت گزرا ؟ کوئی اہم واقعہ یا یادگار لمحہ ؟​ 5۔ جن اداروں میں آپ نے تعلیم حاصل کی وہاں نظام تعلیم کے حوالے سے کچھ کہنا چاہیں گے ؟ جامعہ رحمانیہ لاہور اور مرکز التربیۃ فیصل آباد کے بارے میں بالخصوص کچھ لکھیں ۔​ 6۔كيا كسی پیشے سے منسلک رہے یا ہیں ؟​ 7۔عمرعزيز کی کتنی بہاریں گزار چکے ہیں ؟اب تك زندگی سے کیا سیکھا؟؟​ 8۔آپ ماشاءاللہ شادی شدہ ہیں ، اولاد کے نام سے آگاہ فرمائیں ؟ ان کو کیا بنانا چاہتے ہیں ؟ مستقبل میں ان سے پر امید ہیں ۔؟​ 9۔گھریلو ماحول کیسا ہے ؟ اہل خانہ علمی کاموں میں رکاوٹ تو نہیں بنتے ۔؟​ 10۔اپنی طبیعت اور مزاج کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے ؟​ 11۔انٹرنیٹ کی دنیا سے کب متعارف ہوئے ؟ اور اس پر دینی کام کرنے کا رجحان کیسے پیدا ہوا ۔؟ انٹرنیٹ پر اپنی علمی و دعوتی مصروفیات ذرا تفصیل سے بتائیں ۔​ 12۔ کن کن مدراس میں بطور استاذ خدمات سرانجام دے چکے ہیں ؟ اپنا دینی ادارہ بنانے کی خواہش کیسے پیدا ہوئی ۔؟ اور اس سلسلے میں اپنے تجربات سے آگاہ فرمائیں ۔ 13۔فرصت اور پریشان کن لمحات کن امور پر صرف کرتے ہیں؟ آپ کے روز مرہ کے مشاغل کیا ہیں؟​ 14۔آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟وہ کون سی ایسی خواہش یا خواب ہے جو اب تک پورا نہ ہو سکا؟​ 15- تحرير و تقرير کے میدان میں قدم کب رکھا ؟ آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں ، آپ کی پسندیدہ کتاب کون سی ہے ۔؟آپ کے خطبات یا تقاریر کا کوئی ریکارڈ ہے ۔؟​ 16۔ علمی نظریات کو تحریر یا تقریر کی صورت میں آگے منتقل کرنے سے پہلے کسی معتبر عالم دین سے ’’ نظر ثانی ‘‘ کروانے کے بارےمیں آپ کا کیا خیال ہے ۔؟​ 17۔خود كو بہادر سمجھتے ہیں ؟ کن چیزوں سے ڈرتے ہیں ؟(ابتسامہ)​ 18۔ کسی کے ساتھ پہلی مُلاقات میں آپ سامنے والے میں کیا ملاحظہ کرتے ہیں ؟ علماء اور بڑی شخصیات سے بھی ملتے رہتے ہوں گے ، چند ایسی ملاقاتوں کا تذکرہ کریں جو آپ کے لیے یادگار ہوں ۔​ 19۔ بعض طالب علموں میں علماء عصر پر تنقید کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے ، اس حوالے سے کچھ کہنا چاہیں گے ۔؟​ 20۔اِس پُرفتن دور میں دُنیا کے مجموعی حالات کو دیکھ کر آپ کیا سوچتے ہیں؟​ 21-محدث فورم کے وہ کون سے اراكين ہیں ، جن کی تحاریر سے آپ متاثر ہوئے يا علمی فائدہ محسوس ہوا ؟​ 22۔مستقبل میں ایسا کیا کرنا چاہتے ہیں ، جو ابھی تک نہیں کیا؟ہمیں بھی اس سے آگاہ کیجئے ہوسکتا ہے آپ کو محدث فورم سے کوئی ہمنوا مل جائے ؟​ 23۔دین اسلام کی ترقی و سربلندی کے لیے ، مسلمانوں میں کس چیز کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟؟​ 24۔آپ کی نظر میں نوجوان طبقے کے لیے كون سی ضروری چیزیں ہیں جن کا خیال رکھ کر ایک مثالی مسلمان بن سکتا ہے ؟​ 25۔دین اسلام کے بیش بہا موضوعات میں سے وہ کون سا ایسا موضوع ہے ، جس کی محفل آپ کو بہت پسند آتی ہے ؟​ 26۔ مسلکی اختلافات کےبارے میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے ؟​ 27۔ جدید پیش آمدہ مسائل کے دینی حل کے لیے بہترین طریقہ کیا سمجھتے ہیں ؟​ 28۔ہر انسان زندگی کے کسی نہ کسی شعبہ میں مہارت اور قابلیت رکھتا ہے ، اس حوالے سے اپنی صلاحیتوں کی تلاش کیسے ہوئی ؟ نیز اس مہارت اور قابلیت کا تذکرہ بھی کیجیئے۔​ 29۔پاکستانی سیاست میں بطور عالم دین شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں؟؟​ 30- اپنی پسندیدہ شخصیات اور کتب کے بارے میں آگاہ فرمائیں ۔​ 31۔امور خانہ داری میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں؟؟اور اگر خود کھانا بنانا پڑے تو؟؟؟​ 32۔ آپ کو غصہ کتنا آتا ہے اور اُس صورت میں کیا کرتے ہیں؟​ 33۔ادارہ محدث کے کاموں میں پہلے سے اب تک عملی طور پر شامل ہیں یا نہیں؟​ 34۔ اب تک محدث فورم کے کن کن اراکین سے آپ کی مُلاقات ہو چُکی ہے۔​ 35۔ اراكينِ محدث فورم کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟​ [​IMG] @ابن بشیر الحسینوی [​IMG]​ نوٹ : انٹرویو میں دیگر اراکین بھی شرکت کرسکتے ہیں لیکن ذرا نظم و ضبط کا خیال رکھتے ہوئے ۔​ (منجانب : انٹرویو پینل )​ ان سوالات کے جواب پڑھنے کے لئے ابھی لنک پر کلک کریں