Friday, 27 February 2015

تالیفات و تحقیقات لفضیلۃ الشیخ ابن بشیر الحسینوی


عربی کتب: ۱: تنبیہ المحققین علی تدلیس المدلسین المعروف بموسوعۃ المدلسین ۲: الفتح الجلیل فی ضوابط الجرح والتعدیل ۳: النصیحۃ لمن اراد قبول النصیحۃ فی التعلیق علی انوارالصحیفۃ ۴: الاعلان فی معرفۃ من قیل فیہ لم یسمع عن فلان ۵: التّبیین فی شرح اصل السنّۃ واعتقاد الدین ۶: معجم الضعفاء والمجھولین (تحت الترتیب) ۷: موسوعۃ الأحادیث الشاذۃ ۸: الرد علی الھدایۃ للمرغینانی ۹: علوم الحدیث عندالشیخ الالبانی ۱۰: تعلیقات علی تیسر مصطلح الحدیث للدکتور محمود طحان ۱۱: موسوعۃ القواعد الفقہیۃ ۱۲: زاہد الکوثری فی میزان الامام الالبانی رحمہ اللہ ۱۳: فقہ المحدثین عن احادیث صحیح البخاری۔ ۱۴: حاشیۃ مشکوۃ المصابیح لطلبۃ الجامعات ،تحت الترتیب ۔ ۱۵: تعلیقات الشیخ الاثری حفظہ اللہ علی سلسلتی الامام الالبانی رحمہ اللہ ۱۶: التقریر علی التقریب ۱۷:الرجال عند علماء الاحناف جرحا وتعدیلا ۱۸:سکوت المحدثین عن درجۃ الحدیث ۱۹:الرد القوی علی العرف الشذی ۲۰:الاحادیث الضعیفۃ عندالامام البخاری ۲۱:البرھان فی تناقضات ابن حبان ۲۲:تلخیص الکواکب النیرات (ھذہ کتب ماطبعت لکن بعضھم مبطوع علی انترنیت) ۲۲:موسوعۃ احادیث الصیام اردو کتب: ۲۳: شرح صحیح مسلم فی ۷ ،اجزاء تحت الطبع فی باکستان ۲۴: شرح مقدمہ صحیح مسلم ۔تحت الطبع۔ ۲۵: شرح الجامع الترمذی فی ۵،اجزاء۔غیر مطبوع۔ ۲۶: شرح مسند الحمیدی ۔تحت الطبع ۲۷: حاشیہ السنن الکبری للبیہقی تحت الترتیب ۲۸: ائمہ قراء ت جر ح و تعدیل کی میزان میں (رشد قراء ت نمبر میں مطبوع ہے ) ۲۹: اصول تخریج و تحقیق۔طبع علی انترنیت۔ ۳۰: حسن لغیرہ حدیث کی حجیت پر وارد اشکالات کا علمی جائزہ ۔مطبوع علی انترنیت ۔ ۳۱: سلسلۃ الاحکام الصحیحۃ طبع الجزء الاول ۳۲: سلسلۃ الاحکام الضعیفۃ ۔ما طبع ۳۳: فرق باطلہ کے تعاقب میں ۔طبع البعض فی الرسائل وانترنیت۔ ۳۴: بالوں کا معاملہ ۔مطبوع ۳۵: جانوروں کے احکام۔ تحت الطبع ۳۶: التقریب لعلوم الشیخ المحدث ارشاد الحق الاثری حفظہ اللہ۔ ما طبع ۔ ۳۷: نصیحتیں میرے اسلاف کی۔تحت البطع ۔ ۳۸ سفر نامہ ابن بشیر الحسینوی ۔طبع علی انترنیت۔ ۳۹: گھر کا دینی نصاب ۴۰: جاہلوں کی دنیا ۴۱: مساجد کے احکام۔ مطبوع ۴۲: الرد علی القدوری۔ غیر مطبوع ۴۳: الرد علی الھدایۃ للمرغینانی۔غیر مطبوع ۔ ۴۴: شرح صحیح بخاری پرم کام جاری ہے ۴۵: طہارت کے احکام ۴۶: جوتے اور پاؤں کے احکام ۴۷: درس ترمذی از تقی عثمانی کا تعاقب ۴۸: آثار السنن کا تعاقب ۴۹: میں محدث کیسے بنوں؟ ۵۰: عورت کے گھر سے نکلنے کے احکام مراجعت و تخریج و تحقیق: ۵۱: تحقیق وتخریج مسند الإمام احمد بمشارکۃ بعض الاخوۃ وہو مطبوع من دارالسلام الریاض ۵۲: تحقیق بلوغ المرام تحت الطبع فی باکستان۔ ۵۳: تحقیق وتخریج الإصلاح (الجزء الثانی)لمحمد الجوندلوی رحمہ اللہ۔مطبوع ۵۴: تحقیق وتخریج کتاب الاذان لعبدالقادر الحصاری رحمہ اللہ ۔تحت الطبع۔ ۵۵: تحقیق و تخریج الصحیحین لعبدہ الفلاح رحمہ اللہ۔غیر مطبوع۔ ۵۶: تحقیق و تخریج ادعیۃ الرسول لعطاء اللہ حنیف البھوجیانی رحمہ اللہ ۔ماطبع۔ ۵۷: راجع ’’تحقیق المعجم المختص للحافظ الذھبی ‘‘رسالۃ دکتورۃ للشیخ الدکتورمحمد عبدالرحمن یوسف حفظہ اللہ۔تحت الطبع ۔ ۵۸ وراجع وقابل علی النسخ المطبوعۃ من الکتب الحدیثیۃ وصحّح،الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل للمحدث ضیاء الرحمن الاعظمی المدنی فی۲۰ مجلدا ۔بمشارکۃ بعض الاخوۃ وہو تحت الطبع فی دارالسلام الریاض۔ ۵۹: و راجع ترجمۃ صحیح ابن حبان۔تحت الطبع ۔ ۶۰: المعلقات فی صحیح البخاری ۔دراسۃ علمیۃ ومنھجیۃ مع التحقیق و التخریج ۶۱تا۷۵ : تخریج و تحقیق و تصحیح کتب محمد سعید محدث بنارسی ۷۶: الآن ھو یعمل علی کتب بعض تلامیذ السید المحدث نزیر حسین دہلوی رحمہ اللہ ۔ ۷۷: تخریج و تحقیق تحفۃ الجمعۃ لشیخ محمد یوسف راجووالوی رحمہ اللہ ۷۸: تخریج وتحقیق اہل حدیث کے امتیازی مسائل ۷۹: تخریج و تحقیق زیارت قبور از اسماعیل سلفی رحمہ اللہ ۸۰: تخریج و تحقیق شرکیہ دم جھاڑ پر فیصلہ کن بحث از محدث روپڑی وغیرہ نوٹ:بعض مخطوطات دیکھنے کا موقع نہیں ملا ورنہ ان میں بھی کئی ایک میری ذاتی کتب کے مخطوط مل جائیں گے ۔

Friday, 20 February 2015

شرح صحیح مسلم


جانوروں کے احکام


سفید بالوں کے احکام


سفید بالوں کے احکام ابن بشیر الحسینوی سفید بالوں کے احکام : (1) سفید بالوں کو اکھیڑنا (2) سفید بالوں کو رنگ کرنا (١) سفید بالوں کو اکھیڑنا حرام ہے ۔ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سفید بالوں کو نہ اکھیڑوکیونکہ بڑھاپا(بالوں کا سفید ہونا )مسلمان کے لیے نور ہے جو شخص حالت اسلام میں بڑھاپے کی طرف قدم بڑھاتا ہے (جب کسی مسلمان کا ایک بال سفید ہوتا ہے )تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتاہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔ '' (ابو داود :٤٢٠٢،ابن حبان (٢٩٨٥) نے صحیح کہا اور امام ترمذی (٢٨٢١)اورنووی(ریاض الصالحین:٢/٢٣٨) نے اس حدیث کوحسن کہاہے۔ (٢) سفید بالوں کو رنگنا ۔ بالوں کو رنگنا خضاب کہلاتاہے اور اس کی درج ذیل صورتیں اور قسمیں ہیں : (١) رسول اللہ نے سفید بالوں کو رنگنے کا حکم دیا ہے ۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑھاپے (بالوں کی سفیدی ) کو (خضاب کے ذریعے)بد ل ڈالو اور(خضاب نہ لگانے میں) یہودیوں کی مشابہت نہ کرو۔ (الترمذی :١٧٥٢وقال: ’’حسن صحیح اور ابن قطان فاسی ؒنے کہاجید ‘‘(بیان الوہم والایھام :٥/٨١٣) ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہودی اور نصرانی (عیسائی) خضاب نہیں لگا تے لہٰذا تم ان کے خلاف کر و ( تم خضاب لگاؤ)[صحیح البخاری:٥٨٩٩،صحیح مسلم :٢١٠٣] (٢) مہندی کا خضا ب (رنگ)لگانا یا مہندی میں کوئی چیز ملا کر سفید بالوں کو رنگین کرنا بھی جائز ہے ۔ (٣) زرد خضاب لگانا بھی ٹھیک ہے ۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دباغت دیئے ہوئے اور بغیر بال کے چمڑے کاجوتا پہنتے تھے اور اپنی ریش (داڑھی )مبارک پرآپ ورس (ایک گھاس جو یمن کے علاقے میں ہوتی تھی ) اور زعفران کے ذریعے زرد رنگ لگاتے تھے ۔''(ابو داود : ٤٢١٠وسندہ حسن،النسائی :٥٢٤٦) احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ آپ نے بعض دفعہ سرخ اور زرد خضاب لگایا ہے اور بعض دفعہ نہیں بھی لگایا۔ نیز دیکھئے فتح الباری(١٠/٣٥٤)شیخ نور پوری حفظہ اللہ لکھتے ہیں : ''احادیث میں رسول اللہ کے بالوں کو رنگنے کابھی ذکر ہے اور نہ رنگنے کابھی جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا رنگنے سے تعلق امرندب پر محمول ہے البتہ کل کے کل بال سفید ہوجائیں کوئی ایک بال بھی سیا ہ نہ رہے تو پھر رنگنے کی مزید تاکید ہے۔ ''(احکام ومسائل شیخ نور پوری١/٥٣١) (٤)سفید بالوں میں سیا ہ خضاب (رنگ) لگانادرج ذیل دلائل کی روشنی میں حرام ہے: 1۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن سیدنا ابو بکر صدیق کے والد ابو قحافہ کو لایا گیا،ان کے سر اور داڑھی کے بال بالکل سفید تھے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :''اس کا رنگ بدلو اور کالے رنگ سے بچو''۔(صحیح مسلم :٢١٠٢/٥٥٠٩) 2۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''ایسی قومیں آخر زمانہ میں آئیں گی جو کبوتر کے پپوٹوں کی طرح کالے رنگ کا خضاب کریں گی وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائیں گی۔'' (ابوداود :٤٢١٢وسندہ صحیح ،النسائی :٥٠٧٨)[اس کا راوی عبدالکریم الجزری(مشہور ثقہ )ہے۔دیکھئے شرح السنہ للبغوی١٢/٩٢ح٣١٨٠] بالوں کو تھوڑا سا چھوڑ کر باقی منڈوا دینا منع ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا''۔(صحیح البخاری:٥٩٢٠،صحیح مسلم :٢١٢٠) قزع کی چار قسمیں ہیں : 1۔ سر کے بال سارے نہ مونڈنا بلکہ جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے بادلوں کے طرح ،ٹکڑیوں میں مونڈنا ۔ 2۔ درمیان سے سر کے بال مونڈنا اور اطراف میں بال چھوڑ دینا ۔ 3۔ اطراف مونڈنا اور درمیان سے سر کے بال چھوڑدینا ۔ 4۔ آگے سے بال مونڈنا اور پیچھے سے چھوڑ دینا ۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :''عدل وانصاف قائم کرنے کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کما ل محبت وشفقت ہے ۔انسانی جسم میں بھی عدل کا خیال رکھا کہ سر کا بعض حصہ مونڈ کر اور بعض حصہ ترک کر کے سر کے ساتھ بے انصافی نہ کی جائے ۔بالوں سے کچھ حصہ سر کا ننگا کر دیا جائے اور کچھ حصہ ڈھانک دیا جائے یہ ظلم کی ایک قسم ہے۔''(تحفۃ المودود بأحکام المولود ص٦٩) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور بعض چھوڑا ہوا تھا آپ نے ان کو ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا : ((احلقوہ کلہ أو اترکوہ کلہ )) تم اس کا سارا سر مونڈو یا سارا سر چھوڑو۔(ابو داود :٤١٩٥ وسندہ صحیح) اس حکم میں جوان اور بڑے مردبھی شامل ہیں اور صرف بچوں کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ راقم الحروف انسانی بالوں کے ۱۳۷ احکام و مسائل پر ایک کتاب بنام (بالو ں معاملہ )لکھی جوکہ مطبوع ہے۔ لنک

Tuesday, 17 February 2015

تصحیح و اعراب و مراجعت الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل


الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل تالیف : محدث العصر دکتور عبداللہ الاعظمی حفظہ اللہ المعروف بالضیائ 20 جلدیں: زیر طبع :دارالسلام الریاض (راقم الحروف نے الجامع الکامل کی کئی جلدوں کا بالاستعاب تنقیدی نظر سے مطالعہ کیا ہے اور دالرالسلام کی طرف سے اس کتاب پر کام کرنے کی ٹیم میں راقم بھی شامل تھا ۔اپنے مطالعہ کی بنا پر خراج تحسین پیش کر رہا ہوں ) اللہ رب العزت کروڑوں رحمتیں نازل کرے ان لوگوں پر جن کا اوڑھنا بچھونا قرآن و حدیث ہے انھیں خوش قسمت لوگوں میں سے ہمارے ممدوح امت مسلمہ کے محسن الاستاذ المحقق المحدث الدکتور عبداللہ الاعظمی المعروف بالضیاء حفظہ اللہ بھی ہیں۔جنھوں نے پچیس جلدوں پر مشتمل کتاب (الجامع الکامل )تالیف فرما کر کتب حدیث میں بے مثال اضافہ فرما دیا یہ صرف کہنے کو حدیث پر ایک کتاب ہی نہیں بلکہ اسم با مسمی ہے ۔ (الجامع)تمام صحیح احادیث کو جمع کرنے والی والی ایسی مثال سلف و خلف میں نہیں ملتی منتشر صحیح احادیث ایک جگہ فقہی ترتیب سے صرف الجامع الکامل ہی میں مل سکتی ہیں ۔ (الکامل)دین اسلام کا ہر مسئلہ کے متعلق قرآن و حدیثکے تمام دلائل جمع کر دیئے ہیں اگر ایک مسئلہ میں ایک سو احادیث صحیح ہوں تو وہ تمام کی تمام اس کتاب میں جمع شدہ ملیں گی ۔ان شاء اللہ (الحدیث الصحیح )صرف مرفوع صحیح احادیث کا انتخاب کیا گیا ہے کسی ضعیف حدیث سے استدلال نہیں کیا گیا تمام دین قرآن و حدیث کی صورت میں ایک جگہ جمع کر دیا ہے ۔والحمد للہ ۔ (الشامل )مصنف حفظہ اللہ کا دعوی ہے کہ انھوں نے کسی صحیح حدیث کو چہوڑا نہیں ،ہر ہر صحیح حدیث کو اس میں جمع کیا گیا ہے خوہ وہ کہاں بھی ہو ۔والحمد للہ ۔ الجامع الکامل کے امتیازات : ١:احادیث کی تخریج و تحقیق بالاستعاب کی گئی جو حدیث بھی لائی گئی اس کی تخریج و تحقیق ضرور کی گئی محدثین کے اصولوں کی روشنی میں اور کوئی شاذ اصول استعمال نہیں کیا گیا اور ہر حدیث پر صحت کا حکم ضرور لگایا گیا ۔ ٢:جابجا فقہی مسائل ،لغوی بحوث مشکل الحدیث کا بہترین حل کتاب میں بے نظیر حسن اور جامعیت پیدا کر دی ۔ ٣:ہر مسئلہ میں احادیث صحیحہ کے تحت وارد ہونے والی ضعیف احادیث کی بھی نشان دہی کر دی گئی ،حقیقت میں یہ انداز بیمار اور کمزور شفا پہنچاتا ہے مخالف کی دلیل کا توڑ کرتا ہے اور غیر ثابت حدیث کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ یہ کتاب اس دور میں لکھی گئی جب لوگوں نے حدیث رسول پر محنت کرنا چھوڑ دی تھی عامی تو عامی پوری زندگی پڑھنے پڑھانے والے بھی حدیث کی چند ایک محدود کتب کے مطالعہ سے تجاوز نہیں کرتے ۔مثلا اگر کوئی استاذ محترم حدیث پڑھا رہے ہیں احادیث پر وسعت نظر ،تمام کتب حدیث کا دقیق نظر سے مطالعہ ،حدیث کے تمام منتشر الفاظ پر نظر اور فنون حدیث پر کڑی نظر خال خال ملتی ہے ۔ الجامع الکامل حدیث کے اساتذہ کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مثل ہے جو ابواب کسی حدیث کی کتاب کے پڑھائے جا رہے ہوں تو وہی ابواب الجامع الکامل سے بھی مطالعہ کیا جائے تو گویا استاد صاحب نے صرف نصابی کتاب کا ہی مطالعہ نہیں کیا بلکہ اس نے اسی مسئلہ کے متعلق تمام احادیث خواہ وہ صحیح ہوں یا ضعیف کا مطالعہ کر لیا ہے خواہ وہ صحیح بخاری ،مسلم میں ہوں ،یا کتب سنن میں یا مسانید میں یا معاجم میں یا اجزاء میں یا مصنفات یا غریب الحدیث میں یا کتب رجال میں یا دیگر کتب میں ہوں ۔اور پھر ہر حدیث کی تحقیق و تخریج سے آگاہی بھی کہ کونسی صحیح ہے اور کونسی ضعیف ،استدلال کس سے کرنا اور کس سے نہیں اگر صحیح ہے تو کیوں اور اگر کوئی حدیث ضعیف ہے تو کیوں؟والحمدللہ یہ کتاب فن حدیث میں ماہر رجال جنم دے گی اور موجودہ کمی کو پورا کرے گی ان شاء اللہ ۔ اللہ رب العزت اس کے جامع کی حفاظت فرمائے ان کی زندگی اور مال میں برکت فرمائے اور اسن کی دیگر کتب اور اس کتاب کو ان کے لئے ذریعہ نجات بنائے اور ان کی حدیث پر اس عظیم ترین خدمت کے روز قیامت حدیث کے خادموں میں ان کا شمار فرمائے ۔آمین