Sunday, 26 February 2017

(اذان سن کر خواتین کا سر ڈھانپنا ۔(از ابراہیم بن بشیر الحسینوی



گزشتہ شمارے میں ہم نے سوالات کے جواب میں اس پر مختصرا عرض کیا تھا کہ اذان کی آواز سن کر ننگے سر ڈھانپنا ضروری سمجھنا درست نہیں ۔اس مسئلہ پر محترم نوید جج صاحب نے ناچیز سے محترم المقام سردار محمد شریف سوہڈل حفظہ اللہ کی معیت میں کچھ بحث کی اور پھر ہم نے کئی ایک علماء کرام سے بھی اس مسئلہ پر بحث کی تو اس کا خلاصہ یہ نکلا :
اذان کے وقت سر ڈھانپنا ضروری نہیں ہے ۔
دور نبوی ﷺ میں صحابیات میں سے کسی سے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور کوئی شرعی دلیل بھی موجود نہیں جس سے ضروری سمجھا جائے ۔
انسانوں کو بہت سی حالتوں میں اذان سننا پڑتی ہے مثلا پیشاب کرتے وقت ،غسل کرتے وقت ،میاں بیوی کے صحبت کی حالت میں ،کام کرتے ہوئے،پیدل چلتے ہوئے ،گاڑی چلاتے ہوئے ،کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ،نماز ادا کرتے ہوئے ،سوتے ہوئے ،کسی سے بات کرتے ہوئے ۔سر پر بوجھ اٹھاتے ہوئے وغیرہ ۔تو اذان ہونے کی حالت میں ان تمام کاموں کو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔اگر کوئی حرج ہوتا تو شریعت میں اس سے منع کر دیا جاتا ۔
آداب اور احترام مسنون ثابت ہیں ۔اپنی طرف سے کسی چیز کو آداب میں شمار کرنا پریشانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اذان کے مفصل احکام شریعت نے بیان کیے ہیں ۔انھیں تسلیم کرنا اور ان کے مطابق عمل کرنا کافی ہے ۔یہ ایک مصنوعی ادب ہے ۔اس کی اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔اگر حیثیت ہوتی تو حکم ہوتا کہ اذان سن کر اپنے سر ڈھانپ لیا کرو۔ایسا نہیں ہے ۔شریعت کے مسائل میں بہت نزاکت اور احتیاط ہے ۔اذان کا ادب کون متعین کرے گا شریعت یا ہم؟صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ ہی ادب متعین کریں گے ۔
بس اسے خواتین کے اپنے آداب و مروت کی حد تک رہنے دیا جائے اس کو اسلام کی طرف منسوب کرنا درست نہیں اگر کوئی عورت اس طرح کرتی ہے تو ہم اس پر پابندی عائد نہ کریں کہ اس طرح نہ کیا کر ۔اور اسے شرعی فرض اور تعبدی بہر حال نہیں کہا جاسکتا ۔
لوگوں کے اپنے بنائے ہوئے آداب کی لمبی فہرست ہے اور پھر مختلف قبائل میں مختلف آداب دیکھنے کو ملتے ہیں ۔قرآن و حدیث مکمل دین ہے اسی کی پیروی میں کامیابی ہے ۔ورنہ مصنوعی آداب ہی نظر آئیں گے اللہ اوراس کے رسول ﷺ کے مقرر کردہ آداب کافی نہ سمجھے جائیں گے جو کہ درست نہیں ۔

Friday, 24 February 2017

سلفی ریسرچ انسٹیٹیوٹ برمنگھم ،لاہور کی ویب سائٹس

سلفی ریسرچ انسٹیٹیوٹ برمنگھم ،لاہور کی مطبوعہ کتب

ہماری درج ذیل کتب مطبوع ہیں ۔
رسالہ نجاتیہ در عقائد حدیثیہ از امام محمد فاخر زائر الہ آبادی رحمہ اللہ 
اصول السنہ از امام حمیدی رحمہ اللہ 
مجموعہ مقالات اصول السنہ از امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ 
عقیدۃ السلف واصحاب الحدیث از امام صابونی رحمہ اللہ
نصیتیں میرے اسلاف کی حصہ اول از ابراہیم بن بشیر الحسینوی 
تخریج و تحقیق کے اصول و ضوابط از ابراہیم بن بشیر الحسینوی 
نکاح و طلاق کے اصول وضوابط از محمد احسان الحق شاہ ھاشمی 
ہماری یہ کتب پاکستان کے ہر مکتبہ ہر دستیاب ہیں ۔
لاہور میں ہمارے ڈسٹری بیوٹر کتاب سرائے اور مسلم پبلی کیشنز ہیں ۔
الحمدللہ کئی ایک ہماری کتب مطبوع ہیں ۔

یتیموں کی کفالت کی اہمیت

آج کا یتیم کل کا جوان ہوگا اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن میں بچہ جن محرومیوں اور احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے اُس کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا اور یہ محرومیاں اُس بچے کے مستقبل پربری طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس لئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ یتیم بچہ ،جو ملک و قوم کا وارث بننے جا رہا ہے، اِسے زیادہ سے زیادہ شفقت و محبت سے نوازیں۔ا گر بچپن میں یتیم کو آوارہ چھوڑ دیا گیا اور اس نے غلط تربیت پائی تو یہ اپنے معاشرے کے لئے مفید شہری ثابت ہونے کی بجائے خطرہ بن جائے گا۔
مسلم معاشرے میں یتیم کا مرتبہ اور مقام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اِسلام نے جن اعمال کو بہت واضح طور پر صالح اعمال قرار دیا ہے ان میں یتیمو ں اور مسکینوں کی مدد کو ترجیح دی گئی ہے۔
قران پاک میں ارشاد ہے کہ، ’’اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ سکے گی۔‘‘(النساء ۔127)
نبی مہربان ﷺ خود بھی ایک یتیم تھے اور اسی لئے جہاں آپﷺ اوروں کے ساتھ صلہ رحمی ، عدل، پاک دامنی، صداقت و درگزر کا پیکر تھے۔ وہاں مسکینوں ، بیواؤں اور خصوصاً یتیموں کے لئے سب سے بڑھ کر پیکرِ ضود سخا تھے۔

حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ ،’’مَیں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح(قریب) ساتھ ہوں گے ‘‘۔(اور آپ نے اپنی شہادت اور بیچ والی انگلی سے اشارہ کیا)بخاری شریف ہمیں احساس کرنا اور یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے رشتے داروں میں ،اہل محلہ ، علاقے اور شہر میں کوئی بے سہارا یتیم تو نہیں۔موسم کی شدت برادشت کرتا ، کھڑکی سے سکول جاتے بچوں کو تکتا ، کسی ورکشاپ پر کام کرتا یا کسی چوراہے پر پھول بیچتا کوئی ایسا معصوم، جس تک الخدمت کفالت ِ یتامیٰ پروگرام کا پیغام نہ پہنچا ہو۔ مسلم معاشرے کے لئے ہر یتیم بچہ رنگ، نسل اور مذہب کی تمیز کے بغیر اپنے ہی بچوں کی طرح عزیز ہے ۔ انسان تو نیت اور ارادہ کر کے ہی اللہ کی خوشنودی کا حقدار بن جاتا ہے، جبکہ بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا کام بھی اللہ کی مرضی کے بغیر انجام نہیں پا سکتا اس لئے کارِ خیر میں خلوصِ نیت اور عزم ِ مصمم سے شریک ہو کر دُنیا و آخرت کی فلاح اور نجات کا سامان کیوں نہ اکھٹا کیاجائے۔ابن حنبل انٹر نیشنل ٹرسٹ معاشرے میں ایک مثبت رویے کو پروان چڑھا رہی ہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت۔ آیئے آپ بھی صرف 3,000 روپے ماہانہ اور 36,000 سالانہ کے زر تعاون سے کسی یتیم کے خوابوں کی تعبیر کیجئے اور مسکراہٹ کا باعث بنیں۔(منقول

زیر کفالت امجد جاوید مرحوم کی فیملی

زیر کفالت خاندان کی تفصیل 
مرحوم امجد جاوید بن برکت علی 
ایڈریس:وارڈ نمبر 3 محلہ خاص الہ آباد ،تحصیل چونیاں ،ضلع قصور
شناختی کارڈ نمبر:3510199897791
خاندان نمبرfj5j7s
تاریخ پیدائش :1976
تاریخ وفات:8دسمبر 2016
مرحوم کی  بیوہ اور بچوں کے ضروری کوائف
بیوہ :فرزانہ بی بی 
شناختی کارڈ نمبر 3510151409598
 عادل جاویدولد امجد جاوید  
عدنان جاوید ولد امجد جاوید 
حناء امجد جاوید ولد امجد جاوید
محمد ارمان ولد امجد جاوید 
محمد زین ولد امجد جاوید

تمام بچے زیر تعلیم ہیں اور کوئی بھی کمانے والا نہیں ہے ۔
ضروریات :
خشک راشن 
بچوں کے تعلیمی اخراجات 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مستقل گھر بھی نہیں ہے ان شاء اللہ اس فیملی کو گھر بھی بنا کر دیا جائے گا ۔
معاونین اپنے تعاون بھیجنے کے لیے اس پر کلک کریں 

کفالۃ الیتامی کے مقاصد اور طریقہ کار

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
ہم نے توفیق الہی سے یتیم اور مستحق افراد کی کفالت کرنے کی ادنی سی کوشش کی ہے اللہ تعالی اسے قبول فرمائے ۔
اس کے مقاصد درج ذیل ہیں ۔
اللہ تعالی کی رضا کا حصول 
مستحق یتیم افراد کی گزر بسر کے لیے ان کے ساتھ تعاون 
بے روز گاری اور مہنگائی کے اس دور میں یتیم افراد کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کی ادنی سی کوشش۔
اور ان کی بہترین دینی اور دنیاوی تعلیم کا معقول انتظام 
جو بھی یتیم اپنی کفالت کی ذمہ داری ہمیں دینا چاہتا ہے وہ درج ذیل چیزیں ہمیں بھیجے ۔
والد کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ
بچوں کا بے فارم 
زوجہ محترمہ کا نکاح نامہ 
ان شاء اللہ ہم حسب توفیق ماہانہ تعاون بھیجیں گے ۔
ہم سے رابطہ کا طریقہ:
03024056187
ای میلialhusainwy@gmail.com
آپ کی دعاوں کا محتاج
محمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی 
مدیر ابن حنبل انٹرنیشنل ٹرسٹ
نوٹ:معاونین حسب استطاعت تعاون فرماکر اپنے لیے صدقہ جاریہ بنائیں۔
ڈونیشن کے لیے طریقہ کار کے لیے اس پر کلک کریں 

Thursday, 23 February 2017

نیا پروجیکٹ :شرح صحیح البخاری للشیخ المحدث النقاد عبدالرحمن الضیاء حفظہ اللہ


استاد محترم موجودہ دورکے بہت بڑے محدث ہیں ۔اللہ تعالی نے ہر فن میں رسوخ عطافرمایا ہے ۔وہ جہاں حافظ محمد محدث گوندلوی رحمہ اللہ اور حافظ عبدالمنان محدث نورپوری رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں وہاں انھوں نے عرب کے کبار محدثین( جن امام ناصر الدین البانی رحمہ اللہ بھی ہیں) سے بھی استفادہ کیا ہے ۔الحمدللہ ۔
شیخ محترم اب تک کئی بار صحیح بخاری پڑھا چکے ہیں ۔اللہ تعالی کی خاص توفیق سے بندہ ناچیز نے اپنے بھتیجے مولانا احسان یوسف الحسینوی حفظہ اللہ کو شیخ صاحب کے پاس جھنگ صحیح بخاری پڑھنے کے لیے بھیجا اور ساتھ تنبیہ کی کہ مکمل بخاری ریکارڈ کرنی ہے ۔انھوں نے ایسا ہی کیا ۔
شیخ محترم نے نہایت تفصیل کے ساتھ صحیح بخاری کے ایک ایک لفظ پر محدثانہ اور فقیہانہ بحث کی ۔جو مکمل ریکارڈنگ کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے ۔اور اس کو شائع کرنے کا عزم مصمم ہے ۔ان شاء اللہ ۔ایک مستقل ٹیم اس کام پر لگادی ہے ۔امید واثق ہے کہ پانچ ماہ میں یہ شرح رجسٹروں پر منتقل ہو جائے گی پھر اس کی کمپوزنگ اور طباعت کے مراحل شروع کئے جائیں گے ان شاء اللہ ۔یہ شرح دس سے زیادہ جلدوں پر مشتمل ہو گی ۔تمام قارئین سے ہمارے اس عظیم پروجیکٹ کے لیے خصوصی دعاکی گزارش ہے کہ اللہ تعالی ہم جیسے ناتواں اور کمزور بندوں سے یہ عظیم خدمت لے لے اور اس کے اخراجات( لاکھوں روپے کا بجٹ )خزانہ غیب سے مہیا فرمائے ۔آمین
آپ کی دعاؤں کا محتاج :محمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی